آغازِ کلام
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط فہمیوں میں پڑ جاتے ہیں۔ مگر جب ساتھ ہوتا ہے تو محض ملاقات تمام غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ دہلی کے ایک سلمان اس سال حج کر کے آئے۔ انھوں نے زمزم اور کھجور کا تحفہ بھیجا۔ اس کے بعد ان سے ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ جب سے واپس آیا ہوں ، یہاں جی نہیں لگ رہا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ دوبارہ وہیں مکہ مدینہ چلے جائیں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی صحت مند جذبہ نہیں ہے۔ ہمارے لئے نمونہ اصحاب رسول ہیں۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ مکہ اور مدینہ میں قیام کر کے بیٹھ جائیں۔ اس کے بجائے وہ لوگ عرب سے نکل کر دور دور کے ملکوں میں پھیل گئے۔ انھوں نے اسلام کی اشاعت کو اپنا مقصد بنایا نہ کہ مقامات مقدسہ میں قیام کو۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام ساری دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو اسلام آج صرف مکہ اور مدینہ میں سمٹا ہوا ہوتا۔ ۸ جولائی ۱۹۹۳ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ کیوں کہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے۔ اور کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے۔ (رو| فضل | لعبادة انتظار الفرج) مشكاة المصابيح ۶۹۳/۲ ترمذی نے اس روایت کو غریب لکھا ہے۔ مگر معنی کے اعتبار سے وہ مجھے بہت اہم معلوم ہوتی ہے۔ انسان کی یک کمزوری ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اس کو وہ فوراً حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور اگر اس کی مطلوب چیز فوراً اس کو نہ ملے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔ یہ بہت بڑی بھول ہے۔ موجودہ دنیا میں واقعات معجزاتی طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ اسباب کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ اس لئے انتظار خود ایک مثبت پالیسی ہے۔ اگر آپ کے اوپر شام آگئی ہے تو آپ کے لئے صرف انتظار کافی ہے۔ اگر آپ پریشان ہوئے بغیر صرف انتظار کی پالیسی اختیار کر لیں تو مقرر وقت پورا ہونے کے بعد صبح کی روشنی اپنے آپ ظاہر ہو جائے گی یہی معاملہ تمام انفرادی اور اجتماعی مسائل کے لئے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader