Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کو میں تقریبا تیس سال سے پڑھ رہا ہوں مگر عجیب بات ہے کہ وہ خبر جو اس میں روز چھپتی ہے اور وہ صفحہ اول کی سب سے پہلی خبر ہوتی ہے، اسی سے بے خبر تھا۔ یہ اخبار ۱۸۳۸ میں جاری ہوا۔ اسی وقت سے اس کے پہلے صفحہ کی پیشانی پر ایک مونوگرام چھپتا ہے۔ اس مونوگرام میں آرٹ کے اندازِ اندازی میں باریک خط میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سچائی باقی رہتی ہے : Let truth prevail. مولانا انیس لقمان ندوی نے بتایا تو میں نے اس کو دیکھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کا مشاہدہ کتنا زیادہ ناقص ہے۔ انسان دیکھتا ہے مگر وہ نہیں دیکھتا، وہ سنتا ہے مگر نہیں سنتا۔ ۱۰ جولائی ۱۹۹۳ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۴ محرم ۱۴۱۵ ھ ، ۲۳ جون ۱۹۹۳ء) میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے : ہکذا اسلمنا (اس طرح ہم نے اسلام قبول کیا)۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں اس وقت ۲۷ ایسے ادارے ہیں جن کا یہ کام ہے کہ سعودیہ میں روزگار کے لئے آنے والے غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اس کوشش کے نتیجہ میں کثرت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں اسی قسم کے کچھ نومسلموں کا انٹرویو شائع کیا گیا ہے۔ یہ سب فلپائن کے لوگ ہیں۔ عرب ملکوں میں فلپائن کے لوگ کثرت سے ہیں۔ یہ لوگ تلاش معاش کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں۔ فلپینی بہت سادہ مزاج ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرب اخباروں میں اکثران کے اسلام کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اسی فلپائن میں پچھلے ۳۰ سال سے پاکستان کے انداز کی تقسیمی تحریک چل رہی ہے۔ فلپائن کے ایک حصہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ چنانچہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلم اکثریت کے اس حصہ کو کاٹ کر الگ ملک بنائیں۔ دعوت کے راستہ سے وہ پورے ملک کو اسلامی ملک بنا سکتے ہیں۔ مگر اس طرف انھیں کوئی توجہ نہیں۔ وہ صفِ جغرافی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page