آغازِ کلام
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
تقسیم کو جانتے ہیں چنانچہ ۳۰ سال سے وہ سیاست کی چٹان پر سر پٹخ رہے ہیں۔ اور اب تک تباہی کے سوا کوئی اور تحفہ وہ ملک کو نہ دے سکے۔ ہمارے ایک رشتہ دار مع اہلیہ اسی سال حج کر کے آئے ہیں۔ واپسی میں وہ ایک دن ہمارے یہاں ٹھہرے ۔ ان کے ساتھ پلاسٹک کے دو خوبصورت ڈرم میں زمزم بھی تھا۔ یہ ایک نئی چیز تھی۔ چنانچہ میری لڑکی نے ان کی اہلیہ سے پوچھا کہ یہ آپ کو کہاں سے ملا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہیں دہلی ایئر پورٹ پر۔ لڑکی نے دوبارہ پوچھا کہ کس نے یہاں دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کتے نے دیا ہے۔ لڑکی نے پوچھا کہ کون۔ خاتون نے کہا کہ ہم اس کا نام نہیں لیں گے ۔ وہی جس نے مسجد توڑوائی ہے۔ میری لڑکی نے پوچھا ، کیا نرسمہاراؤ (وزیر اعظم ہندوستان) خاتون نے کہا کہ ہاں۔ زمزم کے یہ دونوں ڈبے انھیں مکہ یا جدہ میں نہیں ملے تھے۔ وہ جب دہلی ایئر پورٹ پر اترے تو یہاں ایئر پورٹ پر انھیں یہ ڈبے دئے گئے۔ دونوں پر بڑا بڑا اسٹیکر لگا ہوا تھا جس پر لکھا ہوا تھا : ZAM ZAM with compliments from European Airlines مذکورہ خاتون نے اس اسٹیکر کو نہیں پڑھا۔ چوں کہ یہ دونوں ڈرم انھیں دہلی ایئر پورٹ پر ملے تھے اس لئے انھوں نے فرض کر لیا کہ یہ وزیر اعظم نرسمہاراؤ کی طرف سے دئے گئے ہیں۔ میں نے اس قصہ کو سنا تو میں نے کہا کہ جو لوگ اپنے ہاتھ کی چیز کے بارے میں صحیح رائے قائم نہ کریں ان سے کیوں کر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ دور ایودھیا" کی چیز کے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکیں گے۔ ۱۲ جولائی ۱۹۹۳ء مکہ سے نکلنے والے ہفت روزہ عربی اخبار اخبار العالم الاسلامی کا شمارہ ۲ مئی ۱۹۹۳ء میرے سامنے ہے۔ اس کے صفحہ اول کی پہلی آٹھ کالمي سرخی یہ ہے : حظر الاسلحة على البوسنة ليس عادلا و يتعارض مع ميثاق الامم المتحدة۔ یعنی اقوام متحدہ کی طرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader