آغازِ کلام
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بوسنیا میں ہتھیار لانے پر پابندی غیر منصفانہ ہے اور وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔ تمام دنیا کے مسلم اخباروں میں اس طرح کے بیانات کو نمایاں کر کے چھاپا جاتا ہے۔ اس کے برعکس تعمیری اور اصلاحی باتوں کو اگر جگہ ملتی ہے تو صرف اندر کے غیر اہم کالموں میں۔ مثلاً اگر میں ایک مضمون لکھوں جس میں بتایا گیا ہو کہ اغیار کے ہتھیاروں پر جنگ نہیں لڑی جاتی، اگر آپ کو لڑنا ہے تو جنگ روک کر پہلے ہتھیار تیار کیجئے اور جب آپ ہتھیار میں خود کفیل ہو جائیں اس کے بعد جنگ چھیڑیئے۔ اگر میں اس قسم کا مضمون اخبار میں بھیجوں تو یا تو وہ چھپے گا نہیں، اور اگر چھپے گا تو کسی غیر نمایاں کالم میں۔ جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ میرے نزدیک سطحی صحافت ہے۔ اس قسم کی صحافت صرف کچھ احتجاجی اوراق وجود میں لاسکتی ہے اور حقائق کی اس دنیا میں احتجاجی کاغذات کی کوئی قیمت نہیں۔ ۱۳ جولائی ۱۹۹۴ بنارس کی جامعہ سلفیہ کی طرف سے ایک عربی ماہنامہ شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام صوت الامۃ ہے۔ اس کے ٹائٹل پر یہ الفاظ لکھے رہتے ہیں دعوتنا عودۃ الی الکتاب والسنة۔ اس ماہنامہ کا شمارہ جون ۱۹۹۴ میرے سامنے ہے۔ اس کے آخری صفحہ پر جامعہ سلفیہ کی ایک تازہ عربی کتاب کا اشتہار ہے۔ اس کے مصنف ایک سلفی عالم ڈاکٹر محمد تقی الدین الھلالی الحسینی ہیں۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: الحسام الماحق لكل مشرك ومنافق یعنی ہر مشرک اور منافق کو مٹانے والی تلوار۔ مجھے یہ نام نہایت مکروہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ اند از کلام نہ رسول کا تھا اور نہ صحابہ کرام کا اور نہ تابعین اور تبع تابعین کا۔ سلفی حضرات کتاب وسنت کی طرف واپسی کی بات کرتے ہیں مگر اس واپسی سے ان کی مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ بعض جزئی اور خارجی امور میں غیر مقلیدی مسلک اختیار کیا جائے۔ حالاں کہ کتاب وسنت کی طرف واپسی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تقویٰ اور تواضع کا مسلک اختیار کیا جائے جو دور اول کے اہل ایمان کا شیوہ تھا۔ کسی بھی معاملہ میں صحیح اور غلط کو جاننے کا اصل معیار رسول اللہ اور اصحاب رسول ہیں نہ کہ کوئی اور معیار۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader