Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

ابوذر غفاری ایک پاکستانی صحافی ہیں۔ جنوری ۱۹۹۲ میں وہ افغانستان گئے۔ واپسی کے بعد انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا: "ظاہر شاہ کو جولائی ۱۹۷۳ء میں سردار داؤد نے اقتدار پر قبضہ کر کے شاہ کو جلا وطن کر دیا تھا، ظاہر شاہ نے ۱۹۳۳ء سے ۱۹۷۳ء تک حکومت کی۔ اکثر افغانیوں نے مجھے بتایا کہ اس دور ان افغانستان میں امن و امان رہا۔ لیکن شاہ کی جلاوطنی کے بعد افغانستان جہنم بن گیا۔ ساری افغان قوم تباہ و برباد ہو گئی ہے۔ لاکھوں افغان شہید ہوئے اور لاکھوں زخمی اور اپاہج ہو گئے ہیں۔ جب کہ لاکھوں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اس طرح ظاہر شاہ کو جلا وطن کرنے کی افغان قوم کو خوفناک سزا بھگتنی پڑی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ روسیوں کے جانے کے بعد اب افغان ہی ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مستقبل اس سے بھی زیادہ خوفناک نظر آ رہا ہے۔ افغان مجاہدین کی جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ کوئی مرکزی قیادت نہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ قوم تو تباہ و برباد ہوئی ہے اب ملک کا اتحاد بھی پارہ پارہ ہو جائے گا۔ شمالی افغانستان پر تاجکوں اور ازبکوں کا غلبہ ہو رہا ہے۔ مغربی اور وسطی افغانستان پر ایران کا سایہ پڑ رہا ہے۔ اور مشرقی افغانستان پختونوں کے درمیان اقتدار کی جنگ کا اکھاڑہ بن رہا ہے۔" نوائے وقت، لاہور، ۸ فروری ۱۹۹۲) ۲۱ فروری ۱۹۹۳ ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا : هذا كتاب الله رمز فلاحنا (اللہ کی کتاب میں ہمارے لئے فلاح ہے مضمون نگار نے بڑے جذباتی انداز میں یہ بات کہی تھی کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو قرآن کی طرف لوٹنا چاہئے۔ کیوں کہ اسی میں ان کی فلاح و کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اس قسم کے مضامین اس مفروضہ پر لکھے جاتے ہیں کہ ابھی مسلمانوں نے قرآن کو نہیں پکڑا حالانکہ واقعہ اس کے خلاف ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانہ پر قرآن کو پکڑا ہے۔ مثلاً اخوان المسلمون کی پوری تحریک قرآن کے نام پر چلائی گئی۔ مگر وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page