آغازِ کلام
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمان وہ ہے جو آخرت کے اندیشہ میں جِیتا ہو۔ میرا اندازہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں عوام کا جو طبقہ ہے ان کے یہاں تو شاید کچھ آخرت کا اندیشہ پایا جاتا ہو۔ مگر وہ مسلمان جو کسی اسلامی جماعت یا کسی اسلامی ادارہ سے وابستہ ہیں، وہ اندیشہ آخرت سے بالکل خالی ہے۔ یہ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی آخرت کی کامیابی بالکل یقینی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان میں سے ہر شخص کی جیب میں جنت کا ریزرویشن کار ڈموجود ہے۔ موت کے بعد اس کار ڈکو دکھاتے ہی اس کے لئے جنت کے تمام دروازے کھول دئے جائیں گے تاکہ وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ اس قسم کا یقین بلا شبہ منافقت کی پہچان ہے نہ کہ اخلاص کی پہچان۔ ۱۵ جولائی ۱۹۹۳ء نئی دہلی میں لالہ لاجپت بھون کے صدر مسٹر ستیہ پال (6434595 .Tel) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ فیروز پور (پنجاب) میں رہتے تھے ۔ وہاں وہ لالہ لاجپت رائے کالج کے سیکریٹری تھے۔ جون ۱۹۴۸ میں انھوں نے کالج کے پرنسپل کو ڈس مس کر دیا۔ کیوں کہ اس پر کرپشن کا الزام تھا۔ اس کے بعد اس نے ایک سو سے اوپر طالب علموں کو ورغللا کر ایک ہجوم اکٹھا کیا۔ وہ اشتعال کی حالت میں کالج کی طرف روانہ ہوئے ۔ وہ اس طرح نعرہ لگار ہے تھے : دھکا شاہی نہیں چلے گی ، نہیں چلے گی نہیں چلے گی ۔ ڈی آئی جی (پولیس) مسٹر ستیہ پال کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس فورس کو استعمال کر کے اس مشتعل مجمع کو راستہ میں روک دیں۔ مسٹر ستیہ پال نے پولیس کو سختی سے منع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرے بچے ہیں، ان کو آنے دیجئے ۔ ان کے راستہ میں سڑک پر کہیں پولیس دکھائی نہ دے، ورنہ وہ اور زیادہ مشتعل ہو جائیں گے ۔ مسٹر ستیہ پال نے کالج میں ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا اور طلبہ کے مجمع کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہ مجمع کالج کے پاس آگیا تو کالج والوں نے چاہا کہ اس کا گیٹ نہ کھولا جائے۔ مگر مسٹر ستیہ پال نے ان کے اتنے ہی کالج کا گیٹ کھول دیا۔ انھوں نے لڑکوں سے کہا کہ ہم آپ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader