آغازِ کلام
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
سواگت کرتے ہیں۔ یہ جون کا مہینہ تھا۔ لڑکوں کا پیاس سے برا حال ہو رہا تھا۔ انھوں نے فوراً ان کو ٹھنڈا پانی پلانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد لڑکوں کا اشتعال ختم ہو گیا۔ جو لوگ توڑ پھوڑ کے ارادہ سے آئے تھے ، وہ صرف اس پر راضی ہو کر چلے گئے کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو پرنسپل کے معاملہ کی جانچ کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے ۔ ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ء ڈاکٹر عبد اکلیم عو لیس جولائی کے پہلے ہفتہ میں دہلی آئے۔ ایک ملاقات میں افغانی مجاہدین پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: اتحدو | المعتصم و تفرقوا وقت المغنم۔ وہ بار اٹھانے کے وقت متحد ہوئے اور غنیمت لینے کے وقت متفرق ہو گئے۔ اسی بات کو دہلی کے ایک اردو ہفت روزہ ملی اتحاد ( ۱۶ - ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء ) نے ان لفظوں میں لکھا ہے کہ ــــ افغانستان میں کل کے مجاہدین آج اقتدار کے بھوکے جنگ باز۔ یہ ایک بے معنی تبصرہ ہے۔ کسی بھی تحریک کی پہلی نسل میں کبھی اس قسم کی تبدیلی نہیں آتی۔ اگر بظاہر تبدیلی دکھائی دے تو سمجھنا چاہئے کہ پہلے بھی وہ ویسے ہی تھے جیسا کہ آج وہ نظر آ رہے ہیں۔ ۱۹۸۹ سے ۱۹۹۲ تک افغانی جنگجوؤں نے امریکہ کی مدد سے سوویت یونین کے خلاف جو لڑائی لڑی وہ محض ایک قومی جنگ تھی نہ کہ اسلامی جہاد۔ قومی جنگ کا نتیجہ ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو افغانستان میں نظر آ رہا ہے۔ اگر وہ اسلامی جہاد ہوتا تو تمام لیڈر سیاسی سرحدوں سے بھاگتے۔ پھر لڑائی کس بات پر ہوتی۔ ۱۹۹۲ میں جب کمیونسٹوں کا زوال ہوا اس وقت تیرہ سالہ جنگ کے باوجود کابل محفوظ تھا۔ یہ میں نے خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔ مگر آج جب افغانستان افغانیوں کے ہاتھ میں ہے۔ کابل کی بیشتر عمارتیں جزئی یا کلی طور پر تباہ ہو چکی ہیں ۔ بے شمار لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ مسٹر سید علی احمد انگریزی ہفت روزہ ریڈنس میں اسٹاف رپورٹر ہیں۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader