آغازِ کلام
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
انٹرویو کے لئے آئے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ سید احمد شہید بریلوی پر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ پوری ملت ان کو قابل احترام سمجھتی ہے۔ میں نے کہا کہ میں تنقید نہیں کرتا۔ بلکہ ان کے درجہ اور احترام میں اضافہ کر رہا ہوں۔ سید احمد شہید بریلوی کے ساتھ ہزاروں مسلمان تھے۔ یہ سب نہایت صالح اور با کردار لوگ تھے۔ ان کی تحریک سے بے شمار مسلمانوں کی اصلاح ہوئی اور بہت سے ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ میرا کہنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے بے فائدہ طور پر لڑ کر انھوں نے اپنا خاتمہ کر لیا۔ حالانکہ ان کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اپنے اصلاحی اور دعوتی کام کو جاری رکھتے۔ بین ممکن تھا کہ ان کی کوشش سے مزید لاکھوں مسلمانوں کی اصلاح ہوتی۔ اور مزید لاکھوں غیر مسلم اسلام میں داخل ہو جاتے۔ یہ عمل اگر جاری رہتا تو عین ممکن تھا کہ ہندوستان کا نقشہ ہی بالکل بدل جاتے۔ مگر ان کے جنگی اقدام کی بنا پر یہ تمام امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ہر قسم کے شدید حالات پیش آئے۔ مگر آپ نے ٹکر اؤ سے اعراض کیا۔ اور اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ اگر آپ اپنے اصحاب کو جنگ پر اکساتے تو عین ممکن تھا کہ مکہ شہا دت گاہ بن جاتا اور اسلام کی وہ تاریخ بننے سے رہ جاتی جو ہجرت کے بعد بنی۔ ۱۸ جولائی ۱۹۹۳ شفیع الدین صاحب ایک گزیڈ افسر ہیں اور نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ ان کا ٹیلیفون آیا کہ وہ اپنے ایک مسلمان ساتھی کے ہمراہ اتوار (۱۷ جولائی) کو ملاقات کے لئے آئیں گے ۔ دونوں کو کچھ اسلامی موضوعات پر گفت گو کرنا ہے۔ حسب وعدہ جناب شفیع الدین صاحب شام کو ۴ بجے آئے۔ مگر وہ اکیلے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھی صاحب کے ٹی وی سیٹ میں ریپیئر کی ضرورت تھی۔ کیونکہ کہا کہ آج ۴ بجے وہ ان کے گھر پر آئے گا۔ اس لئے وہ اس کے انتظار میں رک گئے اور یہاں نہ آسکے۔ یہ سلمان صاحب خود میرے بھی ملاقاتی ہیں۔ اس سال ہائی اسکول کے امتحان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader