آغازِ کلام
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ان کے لڑکے کا۔ میٹھیس کا پیپر خراب ہو گیا۔ وہ اپنے لڑکے کو میرے پاس لے آئے اور کہا کہ یہ لڑکا ڈٹی بہت دیکھتا ہے ۔ اسی وجہ سے اس کا پیپر خراب ہو گیا ۔ اس کو سمجھائیے اور اس کے لئے دعا کیجیے۔ چنانچہ میں نے سمجھایا اور دعا بھی کی ۔ مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے بچے جو عام طور پر بگڑ رہے ہیں اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گھروں میں تربیت کے لئے موافق فضا نہیں۔ گھروں میں جب یہ حالت ہو کہ والدین ٹی وی کی خاطر ایک دینی پروگرام چھوڑ دیں تو گھر کے اندر جو ماحول بنے گا وہ یہی ہو گا کہ سب سے اہم چیز ٹی وی ہی ہے۔ جب والدین ٹی وی کی خاطر دینی پروگرام چھوڑ دیں تو بچے سوچیں گے کہ ہم بھی ٹی وی کی خاطر تعلیمی پروگرام کو چھوڑ سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں سمجھانے یا دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بچوں کی تربیت کے لئے سب سے زیادہ اہمیت گھر کی فضا کی ہے۔ گھر کی فضا اگر موافق نہ ہو تو کوئی اور چیز بچوں کی تربیت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ ۱۹ جولائی ۱۹۹۴ء ابن قیم الجوزیہ (۵۱۷ ء۔ ۷۵۱ھ) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: طريق الهجرتين وباب السعادة تین ۔ شام کے ایک صاحب نے مجھے اس کا ۱۹۹۳ء کا چھپا ہو انسخہ دیا۔ ۴۴۱ صفحہ پر مشتمل یہ نسخہ نہایت عمدہ چھپا ہوا ہے۔ اس میں صبر پر لمبی بحث ہے جو اس کے صفحہ ۷۰ ۲ سے شروع ہو کر کئی صفحات تک چلی گئی ہے۔ اس کو پورا میں نے پڑھا ، اس میں معصیت پر صبر، طاعت پر صبر، بلا پر صبر پر تفصیلی کلام ہے۔ گماہم ترین صبر کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ اور وہ داعیانہ صبر ہے۔ کسی قوم کے درمیان دعوت کا عمل جاری کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کیا جائے ۔ مدعو کی زیادتیوں پر صبر کے بغیر اس کے داعی اور مدعو والتعلق قائم نہیں ہوتا ۔ اور نہ دعوت کے حق میں موافق فضا بنتی۔ اس لئے داعی کے لئے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ مدعو کی تمام قولی یا عملی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے تاکہ دونوں کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہو سکے جو دعوتى عمل کی انجام دہی کے لئے ضروری ہے۔ طریق الجرتین میں صبر کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader