آغازِ کلام
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
اس اہم ترین قسم کا کوئی ذکر نہیں۔ آج میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم کا جامعہ ملیہ (اسلامک اسٹڈیز) میں انٹرویو تھا۔ لیکچر شپ کی ایک پوسٹ تھی اور بہت سے امیدوار۔ پورا ڈپارٹمنٹ اس حد تک مخالفت پر تلا ہوا تھا کہ بنظاہر حالات ایک فیصد امکان نہیں تھا کہ فریدہ کا انتخاب ہوسکے۔ مگر فریدہ نے بہت زیادہ دعا کی اور میرٹ انگیز طور پر اس کا سلکشن ہو گیا۔ موجودہ حالات میں یہ معجزہ سے کم نہیں۔ اور یہ معجزہ تمام تر دعا کے ذریعہ پیش آیا۔ جناب رحمان نیر صاحب اس سلسلہ میں پروفیسر اختر الواسع صاحب سے ملے تھے ۔ رحمان نیر صاحب کی روایت کے مطابق انھوں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا : فریدہ صاحبہ سے کہہ دیجیے کہ ان کو انٹرویو میں آنے کی ضرورت نہیں۔ بلا وجہ embarassement ہوگا ۔ جس کو لینا ہوتا ہے وہ پہلے ہی سے طے ہو جاتا ہے۔ ۲۱ جولائی ۱۹۹۴ء صدر بازار کے ایک مسلمان ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ مدرسہ سجانیہ کے مولانا عبد الغفار صاحب نے مجھ کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ میرے کچھ سوالات ہیں۔ انھوں نے مجھ کو بتایا کہ آپ ہی میرے سوالات کا تشفی بخش جواب دے سکتے ہیں۔ انھوں نے کچھ سوالات بتائے ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان ساری دنیا میں ذلیل کئے جا رہے ہیں۔ تمام قومیں مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ پہلے یہ طے کر لیجئے کہ آپ اپنے سوالات کا جواب قرآن سے چاہتے ہیں یا اپنی عقل سے ۔ انھوں نے فورا کہا کہ قرآن سے ، قرآن کے لئے تو ہم اپنی جان بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں نے کہا کہ جان قربان کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ ضرورت ہے کہ قرآن کے آگے آپ اپنی عقل کو جھکانے کے لئے تیار ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ اس سے کس مسلمان کو انکار ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ اپنے سوال کا جواب اس آیت کی روشنی میں معلوم کیجئے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader