آغازِ کلام
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
کے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو ماننا چاہئے کہ مسلمانوں کا کیسا ظلم کا کیس نہیں ہے بلکہ خود اپنی کوتاہی کا کیس ہے۔ وہ فوراً بولے تو کیا مسلمان یہ سمجھ کر مار کھاتے رہیں کہ یہ ہماری بد اعمالی کا نتیجہ ہے۔ میں نے کہا کہ آپ قرآن کی خاطر جان دینے کے لئے تیار تھے، مگر اپنی عقل کو آپ نے قرآن کے تابع نہیں کیا۔ اور جب آپ اپنی عقل کو قرآن کے تابع نہ کریں تو قرآن کا بتایا ہوا حل بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ۲۲ جولائی ۱۹۹۴ موجودہ زمانہ برائی اور ظلم اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ دنیا آخر کیوں قائم ہے۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانوں نے اپنی بڑھی ہوئی سرکشی کے ذریعہ زمین پر اپنے وجود کا استحقاق کھو دیا ہے۔ ایک صاحب سے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا کوٹہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ جنت میں بسانے کے لئے اللہ تعالیٰ کو جتنے آدمی درکار ہیں ان کی تعداد شاید ابھی پوری نہیں ہوئی اس لئے دنیا چلی جا رہی ہے۔ کیوں کہ ظاہر حالات کو دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید صدیاں گزر جاتی ہوں گی تب خدا کو چند آدمی ایسے حاصل ہوتے ہوں گے جو جنت کی نفیس و لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ ۲۳ جولائی ۱۹۹۴ مشکوۃ المصابیح جلد ثالث میں ایک مفصل ضمیمہ ہے جس کا عنوان ہے : أجوبة الحافظ ابن حجر العسقلانی عن احادیث المصابیح ۔ اس میں صفحہ ۵۷۲، سے ۸۲۷ تک صلاة التسبیح کی روایت پر بحث ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے محدث مثلاً ابن الجوزی نے صلاة التسبیح کی حدیث کو موضوع بتایا ہے۔ اور کچھ محدثین مثلاً الحاکم نے اس کی تصحیح کی ہے۔ یہ اختلاف اس لئے پیش آیا کہ اکثر محدثین نے فضائل کی روایات میں تساہل کا طریقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader