آغازِ کلام
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار کیا۔ اور معاملات والی حدیثوں میں تشدد کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تفریق، ایک بدعت تھی۔ جب رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے کسی تخصیص اور استثناء کے بغیر یہ حکم دیا کہ آپ سے روایت کرنے میں انتہائی احتیاط برتی جائے تو محدثین پر لازم تھا کہ دونوں قسم کی روایتوں میں وہ یکساں طور پر تشدد کا طریقہ اختیار کریں۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۴ جنوبی دہلی میں ایک مقام چندن ہولہ ہے۔ یہاں لوگوں کے بڑے بڑے فارم ہاؤس ہیں۔ اسی کے درمیان ایک ٹوٹی پھوٹی مسجد تھی۔ مولوی طلحہ صاحب یہاں آ کر بیٹھ گئے۔ طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے وہ یہاں مسجد اور مدرسہ کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح دہلی میں درجنوں کی تعداد میں مسجد اور مدرسے قائم ہوئے ہیں۔ کوئی مولوی صاحب آ کر کھنڈروں میں بیٹھ گئے۔ پولیس والوں اور مختلف عناصر کا مقابلہ کرتے ہوئے ججمے رہے۔ یہاں تک کہ اب وہاں شاندار مسجد اور مدرسہ کی صورت میں ایک مرکز قائم ہو گیا۔ اسی طرح انشاء اللہ چند برسوں کے بعد چندن ہولہ کا یہ مقام بھی ترقی کر جائے گا۔ اس مدرسہ کا نام مدرسہ فیض القرآن ہے۔ آج اس کا پہلا سالانہ جلسہ تھا۔ میں نے اس میں شرکت کی۔ وہاں کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء کے بعد دہلی اور اس کے اطراف میں دینی و ملی کام کرنے کے لئے یہی مقام آغاز تھا۔ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ چکی تھی ۔ اغیار اس پر قابض ہو چکے تھے۔ اسی ٹوٹے ہوئے کھنڈر سے نیا اسٹارٹ لینا تھا۔ یہ کام ہمارے اکابر نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اکابر تقریروں میں مشغول رہے۔ اور اصاغر نے ان مقامات پر بیٹھ کرنے دور کا آغاز کیا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد تعمیر نو کا کام سب سے زیادہ انھیں اصاغر نے انجام دیا ہے۔ ۲۵ جولائی ۱۹۹۴ ہمارے یہاں بہار کا ایک لڑکا کام کرتا ہے۔ اس کا نام محفوظ ہے۔ پڑوس میں ایک اور بہاری لڑکا دوسرے گھر میں ملازم ہے، اس کا نام خورشید ہے۔ خورشید اپنے گھر جانے کے لیے ۲۲ جولائی کی رات کو ریلوے اسٹیشن گیا۔ اس کے ساتھ محفوظ بھی تھا۔ وہاں پلیٹ فارم پر دو آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader