Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

آئے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی صاحب، آپ کہاں جا رہے ہیں۔ خورشید نے کہا کہ کیٹھیار۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی کیٹھیار چل رہے ہیں۔ اس کے بعد دوستی کی باتیں کرتے رہے۔ آخر میں اس نے ساتھی سے چائے لانے کے لئے کہا۔ وہ چائے لایا اور خورشید اور محفوظ کو پلایا۔ چائے پینے کے بعد دونوں بے ہوش ہو گئے ۔ اس کے بعد دونوں کو لوٹ لیا۔ خورشید دو سال کی کمائی کے بعد گھر جا رہا تھا۔ اس کے پاس پانچ ہزار روپیہ اور تقریباً اتنے ہی کا سامان تھا۔ نئی گھڑی تھی ایک ایک چیز لے کر دونوں بھاگ گئے۔ خورشید اور محفوظ گھنٹوں بے ہوش پڑے رہے۔ اٹھتے تب بھی نیم بے ہوش تھے۔ ان کے پاس نہ کھانے کے لئے پیسہ تھا اور نہ واپسی کے لئے بس کا کرایہ۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں دونوں ادھر اُدھر سڑکوں پر گھومتے رہے۔ یہاں تک ۲۴ گھنٹہ کے بعد دوبارہ ہمارے یہاں واپس آئے۔ میں نے اس قصہ کو سنا تو میں نے کہا کہ ہمارے اخبارات اور ہمارے لیڈر یہی کام زیادہ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو جذباتیت کی شراب پلاتے ہیں، اور جب وہ مدہوش ہو جاتے ہیں تو ان کو آخری حد تک لوٹ لیتے ہیں۔ ۲۶ جولائی ۱۹۹۲ لاہور کے اخبار نوائے وقت کا ہفتہ وار ایڈیشن (فرائڈے میگزین) میرے سامنے ہے۔ اس پر تاریخ ۲۳ جولائی ۱۹۹۲ چھپی ہوئی ہے۔ اس میں ’’وزیرِ اعظم آزاد کشمیر‘‘ سردار عبد القيوم خاں کا خصوصی انٹرویو چھپا ہے۔ انٹرویو کا ایک سوال یہ تھا کہ تحریک آزادی کشمیر پر افغانی جہاد کے اثرات کیا پڑے ۔ سردار عبد القيوم خاں نے جواب دیا:’’میرے خیال میں جہاد افغانستان کے اثرات تحریک کشمیر پر منفی مرتب ہوئے۔ منفی اس لئے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ کیوں کہ افغانستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں۔ سردار عبدالقيوم خاں کا یہ جواب ادھورا ہے۔ انھیں کہنا چاہئے تھا کہ افغانی جہاد کا جو انجام سامنے آیا ہے اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم سب لوگ اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں۔ یہ نہ جہاد ہے اور نہ اسلامی تحریک۔ یہ تو صرف ایک احمقانہ اقدام ہے جس کا نتیجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page