آغازِ کلام
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ پاکستانی اخبار نوائے وقت (۲۲ جولائی ۱۹۹۴ء) میں ہے کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے رہنما شریر یاسین ملک نے رہائی کے بعد کہا کہ " ہم نے ہتھیار دنیا کو متوجہ کرنے کے لئے اٹھائے تھے۔ اب مذاکرات کی ضرورت ہے۔ (فرائیڈے میگزین ، صفحہ ۴) یہ سراسر ایک طفلانہ بات ہے۔ کیوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ مسلح ٹکڑاؤ کی تحریک پہلے چلا دو ، اور اس کے بعد ہتھیار الگ رکھ کر بات چیت کی میز پر بیٹھ جاؤ۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم معلمین اسی قسم کی طفلانہ سوچ میں مبتلا ہیں۔ پہلے انگریزوں کو نکال لو، اس کے بعد مقامی اکثریت سے نمٹ لینا (ہندوستان)، پہلے بادشاہ کا خاتمہ کر دو، اس کے بعد داخلی فوج سے معاملہ طے کر لینا (مصر)، پہلے ملک بانٹ کر ایک علیحدہ خطہ حاصل کر لو، اس کے بعد بقیہ حالات درست کر لینا (پاکستان) وغیرہ۔ اس قسم کی تقدیم و تاخیر صرف الفاظ کی دنیا میں پائی جاتی ہے۔ وہ حقیقت کی دنیا میں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی۔ حقیقت کی دنیا میں صرف ایک ترتیب ہے۔ وہ یہ کہ پہلے انسان حاصل کر دو، اس کے بعد بقیہ مسائل کے حل کے راستے اپنے آپ کھل جائیں گے۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۲ء خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت ابو عبیدہ کا خط آیا۔ اس میں درج تھا کہ رومی ہمارے مقابلے میں بہت بڑی طاقت جمع کر رہے ہیں۔ حضرت عمر نے انھیں لکھا کہ جب بھی بندہ مومن پر کوئی سختی کی کیفیت گزرتی ہے تو اللہ اس کے بعد کشادگی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ کہ ایک مشکل کبھی دو آسانی پر غالب نہیں آسکتی۔ رثانہ مھمانزل بعد مومن منزلة شدة يجعل الله بعدها فرجا وانه لن يغلب عسر يسرين ) تفسیر طبری ۲۲۱/۳ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر کے ساتھ کشادگی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader