Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

انتظار کرنا بھی عبادت ہے (انتظار الفرج بالصبر، عبادة - تفسیر قرطبی ۳/ ۳۳۳) موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ غریب ملکوں میں سیاسی نظام کے خلاف پر شور تقریریں کر کے لیڈری حاصل کرتے ہیں، اور دولت مند ملکوں میں وہاں کے سیاسی نظام سے موافقت کر کے پٹرول ڈالر حاصل کر رہے ہیں ـــــ نام نہاد مسلم رہنماؤں کے بعض واقعات سننے کے بعد میں نے ایک صاحب سے یہ بات کہی۔ ۳۱ جولائی ۱۹۹۴ء ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل جواہر لعل نہرو نے کروائی۔ نہرو کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر ملک کی تقسیم نہ ہوئی تو وہ وزیر اعظم کا عہدہ حاصل نہ کر سکیں گے ۔ غیر منقسم ہندوستان کے وزیر اعظم یا تو مسٹر محمد علی جناح ہوں گے یا مولانا ابوالکلام آزاد۔ یہ بات ناقابل فہم حد تک سادہ لوحی کی بات ہے۔ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد از زیادہ سے زیادہ ۲۵ فیصد ہوتی۔ مسٹر جناح یقینی طور پر صرف اقلیت کے لیڈر تھے ۔ پارلیمنٹ میں ان کے حامی اگر اپنی ساری ممکن سیٹ حاصل کر لیتے تب بھی وہ صرف چوتھائی سیٹوں کے مالک ہوتے۔ ظاہر ہے کہ چوتھائی سیٹوں کی بنا پر کوئی شخص ملک کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے لئے بھی وزیراعظم بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے کے علاوہ وہ انگریزی میں بولنے پر قادر نہ تھے اور موجودہ حالات میں نام ممکن تھا کہ کوئی غیر انگریزی داں آدمی ملک کا وزیر اعظم بن جائے۔ یہی خاص وجہ تھی جس کی بنا پر بعد کو ساؤتھ انڈیا کے لیڈر مسٹر کامراج وزیر اعظم نہ بن سکے۔ یکم اگست ۱۹۹۴ تاریخ کی ایک کتاب میں پڑھا کہ سلطان ٹیپو کی ناکامی کے ذمہ دار اس کے غدار امراء تھے۔ میر صادق جو ٹیپو کا وزیر تھا، میسور کی چوتھی لڑائی کے دوران تمام فوجی راز انگریزوں کو بھیجتا رہا۔ اور انگریزوں نے اپنا فوجی منصوبہ اس کے مشوروں کی روشنی میں تیار کیا ۔ میر غلام علی جس کو ترکی میں سفیر مقرر کر کے بھیجا گیا تھا، غدار ثابت ہوا ۔ سلطان کی شہادت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page