آغازِ کلام
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
ناکام رہی ۔ جماعت اسلامی کی تحریک مکمل طور پر قرآن کے نام پر چلی وہ بھی ناکام ہوگئی۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں بہت بڑی بڑی تحریکیں وت قرآن کے نام پر اٹھائیں۔ معرلت کی تباہی کا علاج نہ ہوسکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ محض قرآن کا نام لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کے اجتہادی فہم کی ضرورت ہے۔ موجودہ زمانہ کی تقریباً تمام تحریکوں نے قرآن کو سیاست اور جہاد کی کتاب کے طور پر لیا۔ اور اسی اعتبار سے اس کو پھیلایا۔ یہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ آج قرآن کو دعوت کی کتاب کے طور پر لینا تھا اور اسی اعتبار سے اس کو مسلمانوں کے ذہن کا جزِ بدن بنانا تھا۔ مگر یہ کام نہ ہوسکا۔ یہی خاص سبب ہے جس کی بنا پر قرآن کے نام پر تحریکیں اٹھانے کے باوجود قرآنی نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۳ مسٹر احمد رشید شیروانی نے قطب مینار کے آگے ڈی ایل ایف کالونی میں اپنا گھر بنایا ہے ۔ وہاں ایک کلب ہے جس میں دو بڑے بڑے لان ہیں۔ شیروانی صاحب نے مجھ کو اور نانا صاحب دیش مکھ اور ڈاکٹر ابھیش شرما کو دوپہر کے کھانے پر وہاں بلایا تھا چنانچہ ہم تینوں آدمی وہاں گئے ۔ کھانے کے دوران ملک کے موجودہ حالات پر کافی باتیں ہوئیں۔ نانا صاحب دیش مکھ (۷۷ سال) آرایس ایس کے خاص لوگوں میں سے ہیں۔ مگر وہ آج کی پالئی ٹیکس سے بہت بیزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل لیڈروں نے اب اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ عوام کو ان پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ یہ صورت حال ہم کو ایک موقع دے رہی ہے کہ ہم غیر سیاسی انداز میں لوگوں کے اندر انسانی اور اخلاقی بیداری لانے کا کام کریں۔ اگر بے غرض لوگ اس کام کے لئے آگے بڑھیں تو ان کو عوام کی طرف سے یقیناً کافی رسپانس ملے گا۔ یہ طے ہو کہ مل کر اس رخ پر کام کیا جائے ۔ یہ سلسلہ انشاء اللہ اسلام کے مثبت تعارف کے لئے بہت مفید ہوگا۔ سویڈن کے سفارتخانہ کے منسٹر جان نارلینڈر (Jan Nordlander) آج ملاقات کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader