Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد ان کے غدار و وفادار افسروں ہی نے انگریزوں کو مشورہ دیا تھا کہ سلطان کی اولاد کو میسور کے تخت سے محروم کر دیا جائے۔ مگر یہ آدھی بات ہے۔ بقیہ آدھی بات یہ ہے کہ سلطان ٹیپو میں وہ کمزوری تھی جس کو کان کا کچا کہا جاتا ہے۔ دربار کے لوگ جو محض حسد کی بنا پر اعلیٰ حکام کی شکایت کرتے تھے، وہ ان شکایتوں کو مان لیتے تھے۔ مثلاً میر صادق کے خلاف مالگزاری کی رستم میں خیانت کی بے بنیاد شکایت کی گئی۔ سلطان نے بلا تحقیق اس کو مان لیا اور میر صادق کی جاگیر کی ضبطی کا حکم جاری کر دیا۔ اسی طرح میر غسلام علی کی بابت شکایت کی گئی کہ فرانس کے بادشاہ نے سلطان کے لئے سونے کی کرسی دی تھی جس کو اس نے خود اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس الزام کی تحقیق کے بغیر سلطان نے میر غسلام علی کے خلاف سخت احکام جاری کر دئیے ۔ اس طرح کی غیر مدبرانہ حرکات سے سلطان ٹیپو کے امرا اس سے بغض رکھنے لگے اور پہلا موقع آتے ہی سلطان سے اس کا انتقام لیا۔ ۲ اگست ۱۹۹۲ ڈاکٹر ہتیش شرما کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ وہ نہایت سمجھ دار آدمی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد توڑنے کے بعد انہوں نے آر ایس ایس کے لوگوں سے کہا تھا کہ" آدمی طاقت دکھاتا ہے اپنی بارگینینگ کیپیسیٹی بڑھانے کے لئے ، آپ لوگوں نے بابری مسجد کو توڑ کر اپنی طاقت دکھادی۔ اب مسلمانوں سے کہو کہ آؤ، ڈائیلاگ کریں۔ مولانا وحید الدین نے اپنا ناموسو لاپیش کرکے مسلمانوں کی طرف سے پہل کر دی۔ اب تم لوگ آگے آؤ اور بات کر کے مندر مسجد جھگڑے کو آخری طور پر اس دلیش سے ختم کردو" مگر آر ایس ایس والوں نے اس پر دھیان نہیں دیا اس لئے بات آگے نہیں بڑھی۔ ۳ اگست ۱۹۹۲ ابن ماجہ (کتاب الفتن) میں ایک روایت کے تحت آیا ہے کہ فانذ ارایتہ اختلافاً فعليكم بالسواد الاعظم (پھر جب تم اختلاف دیکھو تو تم سواد اعظم کے ساتھ رہو ) اس حدیث کا مفہوم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اختلاف کے وقت سواد اعظم کا جو سلک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page