Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو رہی مسلک حق ہو گا ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں اس کی غلطی اس سے واضح ہے کہ آج برصغیر ہند میں ۵۵ فیصد سے زیادہ لوگ اہل بدعت ہیں۔ پھر کیا اہل بدعت کا مسلک درست قرار دیا جائے گا۔ اس حدیث کا تعلق فتنہ کے مسئلہ سے ہے نہ کہ حق کے مسئلہ سے۔ فتنہ کے وقت سواد اعظم کے ساتھ رہنا اسی طرح وقتی مصلحت کے معنی میں ہے جس طرح وقتی مصلحت کے تحت حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں شرک کرنے والوں سے تعلق کو برداشت کیا تھا۔ ایسے موقع پر اصل سوال چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا ہوتا ہے اور فتنہ کے وقت سواد اعظم کے ساتھ رہنا اسی لئے ہے کہ اس سے ٹکرائو زیادہ بڑے شر کا باعث ہوگا۔ سواد اعظم اگر اس وقت حق پر ہو تو معاشرہ میں فساد کی نوبت ہی نہ آئے۔ کیوں کہ اقلیت ہمیشہ اکثریت کے تابع ہوتی ہے نہ کہ جو اکثریت ہے وہ اقلیت کے تابع ہو جائے۔ ۴ اگست ۱۹۹۲ شیخ محمد اکرام آئی سی ایس سرسید کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں : سرسید کی تصانیف میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جن سے نہ صرف مخالف بلکہ ان کے موافق بھی بدظن ہو جاتے تھے۔ سرسید نے جب بائیبل کی نامکمل تفسیر لکھی تو نواب محسن الملک کو اس کی عبارت اتنی شاق گزری کہ اس وقت سرسید سے تعارف نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اس کے خلاف سرسید کو ایک طویل خط لکھا اور جب تک ان سے نہ ملے انھیں یقین نہ آتا تھا کہ سرسید قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ (موج کوثر، صفحہ ۹۱) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور غلط نہی میں کتنا قریبی تعلق ہے۔ نواب محسن الملک کو سرسید کی تفسیر بائیبل سے اختلاف ہوا۔ مگر یہ اختلاف یہاں تک پہنچ گیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ سرسید نماز بھی اگر پڑھتے ہیں تو اسلامی قبلہ کی طرف رخ کر کے نہیں پڑھتے ہیں۔ حالاں کہ یہی نواب محسن الملک ملاقات کے بعد سرسید کے اتنے گرویدہ ہو گئے کہ ان کے قریبی رفیق بن گئے۔ کسی شخص کے بارہ میں کوئی غلط رائے قائم کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کی پوری تحقیق نہ کر لی گئی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page