Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

الھنسٹن (Mountstuart Elphinstone) ایک انگریز تھا۔ وہ ۱۸۵۹ میں پیدا ہوا- اور ۱۹۰۹ میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ برٹش افسر کی حیثیت سے انڈیا میں آیا۔ آخر عمر میں وہ تصنیف کے کام میں مشغول ہو گیا۔ اس کی ایک مشہور کتاب تاریخ ہند (History of India) ہے جو پہلی بار ۱۸۴۱ میں دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ سرسید نے اس کا ترجمہ اردو میں کرایا اور اس کو تاریخ ہند کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب میں مصنف نے جہاں کہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تھا، وہاں اس نے نعوذ باللہ آپ کے لئے پیغمبر باطل (False prophet) کا لفظ لکھا تھا، سرسید نے کسی تبدیلی یا کسی نوٹ کے بغیر عین یہی لفظ اردو ترجمہ میں بھی باقی رکھا۔ اس پر سرسید کے خلاف بہت ہنگامہ ہوا۔ حتیٰ کہ خود الطاف حسین حالی نے حیات جاوید میں لکھا کہ "ممکن تھا کہ ترجمہ میں باطل کا لفظ نہ لکھا جاتا۔ آج برصغیر ہند کے بے شمار مسلمان جو سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے خلاف پرشور بیانات دے رہے ہیں وہ عین اسی وقت سرسید کے زبردست مداح اور پرستار ہیں۔ کتنا فرق ہے ماضی اور حال میں۔ ۶ اگست ۱۹۹۴ ۶ اگست کو میں مانچسٹر (انگلینڈ) میں تھا۔ وہاں دو عرب نوجوان (العارف، طارق الکردی) سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تین چیزیں بچپن سے ہی میں اپنے اندر پارہا ہوں- ایک یہ کہ میں پیدائشی ویجیٹیرین ہوں۔ دوسرے یہ کہ پیدائشی طور پر میرا جھکاؤ غیر مقلدانہ طریقہ کی طرف ہے۔ تیسرے یہ کہ ہندو قوم کی محبت میرے اندر بچپن سے موجود ہے۔ یہ صفتیں میرے اندر شاید اس لئے رکھ دی گئی تھیں کہ ہند و قوم میں اسلام کی دعوت پہنچا سکوں۔ جو لوگ ہندو قوم کی نفسیات اور اس کی قومی روایات کو جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں ہندو قوم میں کام کرنے کے لئے یہ صفتیں انتہائی طور پر ضروری ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے درمیان جو ماحول قائم ہو گیا ہے، اس کے اثر سے شاید میں بھی ہندو و سیزار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page