Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جاتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پیدائشی طور پر میرے اندر وہ صفتیں رکھ دیں جو ہندوؤں کے اوپر داعی بننے کے لئے ضروری تھیں۔ سرسید نے ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ میں ایجوکیشنل کانفرنس کے دوسرے سالانہ اجلاس میں ایک لیکچر دیا۔ اس میں انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کی کھلی مخالفت کی۔ اس پر مولانا شبلی نعمانی نے یہ قطعہ لکھا: کوئی پوچھے گا تو کہہ دوں گا ہزاروں میں یہ بات روش سید مرحوم خوشامد تو نہ تھی ہاں مگر یہ ہے کہ تحریک سیاسی کے خلاف ان کی جو بات تھی آور دتھی آمد تو نہ تھی مولانا سید سلیمان ندوی نے ان اشعار کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”سید مرحوم کے یہ خیالات ذاتی نہ تھے۔ بلکہ انگریزوں کے منہ سے زبر دستی کہلواتے تھے اور سرسید کالج کی محبت میں یہ سب کچھ گوارا کر لیتے تھے۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ سرسید کی کانگریس کی مخالفت کا کوئی بھی تعلق انگریزوں کی خوشامد سے نہ تھا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ سرسید کے زمانہ کی کانگریس وہ نہ تھی جو بعد کو بنی۔ اس زمانہ کی کانگریس تو خود انگریزوں ہی کی ایک سیاسی جماعت تھی۔ وہ وائسرائے ہندلارڈ ڈفرن کی تجویز پر شروع ہوئی۔ اس کے قیام میں مسٹر ایلین ہیوم نے خصوصی حصہ لیا۔ اس وقت کانگریس کے جلسوں میں کثرت سے انگریزی حکومت کے افسران شریک ہوا کرتے تھے۔ سیاسی آزادی کی تحریک کے خلاف سرسید کی رائے اسی خیال کی بنا پر تھی جس بنا پر بہت سے ہندو لیڈر (مثلاً دمن موہن مالویہ، سرتیج بہادر سپرو) بھی اس کے مخالف تھے۔ اور وہ خیال یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو پہلے تعلیم حاصل کرنا چاہئے۔ سیاسی آزادی کا سوال اس کے بعد اٹھانا چاہئے۔ ۱۹۹۳ء اگست الجمعیة و یکلی (۱۲ – ۱۸ اگست ۱۹۹۳) کے صفحہ اول پر ایک شعر جلی قلم کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ یہ وہ شعر ہے جس کو ۱۹۴۷ء سے پہلے الجمعیۃ اور دوسرے اخبار نمایاں طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page