Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہتے تھے۔ وہ شعر یہ ہے : آزاد کا ہر لمحہ پیامِ ابدیت محکوم کا ہر لمحہ نئی مرگِ مفاجات پچھلے ۵۰ سال کے واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ شعر صرف ایک مضمون بندی تھا۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اگر یہ شعر حقیقت کی ترجمانی ہوتا تو ۱۹۴۷ میں آزادی ملنے کے بعد ہمارے اخبارات ابدیت کے پیغام سے بھرے رہتے۔ مگر حال یہ ہے کہ تمام مسلم اخبارات، جرائد آج بھی موت و ہلاکت کی خبروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے مضمون بندی کی یہ قسم اردو زبان میں اتنی عام ہے کہ غالباً کوئی بھی نظم یا نثر اس سے خالی نہیں۔ ۹ اگست ۱۹۹۳ ریاض سے ایک ماہنامہ المستقبل کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے ایک طرف عربی مضامین ہوتے ہیں اور دوسری طرف انگریزی مضامین۔ اس کے عربی حصہ کے افتتاحیہ کا عنوان ہے ــ جراح المسلمين ما تزال تنزف والمؤامرات علی الاسلام مستمرة۔ یعنی مسلمانوں کے زخم سے خون ابھی تک رس رہا ہے اور اسلام کے خلاف سازشیں جاری ہیں (صفحہ ۲) دوسری طرف انگریزی حصہ میں افریقہ کے بارہ میں محمد علی نانوتوی کے قلم سے ایک رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی افریقہ میں ۳۰ ہزار لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ 30,000 embrace Islam in east Africa. آج بھی ساری دنیا میں اسلام کا دعوتی ایڈوانسمنٹ جاری ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی مظلومی بیان کرنا ناغوریت کی حد تک غلط ہے۔ دعوت و اشاعت کے میدان میں اسلام کی ترقی کو بتا کر مسلمانوں کے اندر امید اور حوصلہ پیدا کرنا چاہئے۔ نہ کہ سیاسی ظلم کی خبریں سنا کر انھیں مایوس کر دیا جائے۔ ۱۰ اگست ۱۹۹۳ شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں کہ میرے والد صاحب مجھے حکمت عملی، آدابِ مجلس اور تہذیب و دانشمندی کی باتیں بہت سکھاتے تھے۔ اور اکثر یہ شعر پڑھتے تھے : آسائشِ دو گیتی تفسیر ایں دو حرف است با دوستان تلطف با دشمنان مدارا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page