Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 316

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی صوفیا اکرام کا مسلک ہے۔ اسی مسلک کی وجہ سے صوفیاء کے زمانہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی ۔ صوفیاء نے عملاً صرف اصلاح و ارشاد کا کام کیا۔ انھوں نے کبھی براہ راست طور پر دعوت و تبلیغ کا کام نہیں کیا۔ مگر ان کی مذکورہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت ختم ہوگئی۔ اور جب داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کا خاتمہ ہو جائے اور نارمل فضا میں اختلاط ہونے لگے تو اس کے بعد اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ ااگست ۱۹۹۴ سورۃ الاعراف میں ہے کہ مصر میں جب حضرت موسیٰ کا مقابلہ جادوگروں سے پیش آیا تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ پہلے تم اپنا عصا ڈالو گے یا ہم۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ تم ہی پہلے ڈالو (الاعراف ۱۱۵۔۱۱۶) چنانچہ یہی ہوا۔ جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں ڈالیں اور بعد کو حضرت موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا۔ حضرت موسیٰ خدا کے پیغمبر تھے، ان کو خدا کی طرف سے بتایا جا چکا تھا کہ تمہارا عصا جادوگروں کی تمام رسیوں اور لکڑیوں سے زیادہ طاقت ور ہے اور یقینی طور پر تم ہی اس مقابلہ میں کامیاب ہوگے۔ اس کے باوجود حضرت موسیٰ نے خود پہل نہیں کی۔ بلکہ جادوگروں کو موقع دیا کہ وہ پہل کریں۔ اس سے یہ شرعی اصول اخذ ہوتا ہے کہ مقابلہ کے مواقع پر مسلمان کو اپنی طرف سے ٹکراؤ کا آغاز نہیں کرنا چاہئے ۔ اس کو ہمیشہ انتظار کرنا چاہئے کہ فریق ثانی ٹکراؤ کا آغاز کرے ۔ جب دوسرا فریق آغاز کر دے اس کے بعد اللہ کے بھروسہ پر اس کا بھر پور جواب دینا چاہئے۔ ۱۲ اگست ۱۹۹۴ فقہ حنفی میں بہت سے قواعد و واضح طور پر حدیث کے خلاف ہیں۔ مثلاً حنفی فقہاء کے یہاں حج کے بارہ میں ایک فتوی یہ ہے کہ احرام باندھنے والا شخص اگر حج کے افعال میں سے کسی فعل کو اس کے معین وقت سے مؤخر یا مقدم کر دے تو اس پر دم واجب ہو جاتا ہے۔ (ان المحرم اذا اخر الناسك عن الوقت المؤقت له او قدمه لزمه دم) تأسيس النظر للدبوسي ، صفحه (۸) اس سلسلہ میں واضح روایات موجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ حج کے مراسم میں اگر سہوًاً تقدیم و تاخیر ہو جائے تو اس سے فریضہ حج میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور اس پر دم کی ضرورت نہیں۔ مگر حنفی فقہاء اپنے قیاس کی بنیاد پر دم کو ضروری قرار دیتے ہیں (مشکوة المصابیح ۸۱۳/۲)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page