Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

فقہ میں کچھ متفق علیہ قواعد ہیں۔ تمام فقہاء نے ان کو معتبر اور لائقِ اعتماد تسلیم کیا ہے۔ کسی بھی مقابل ذکر عالم کا ان پر اختلاف نہیں۔ ان میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ تمام امورِ میں فیصلہ ان کے مقاصد کے اعتبار سے کیا جائے گا ( الامور بمقاصد ها )۔ یہ اصول ثابت کرتا ہے کہ شریعت صرف اس اقدام کی اجازت دیتی ہے جو پشت غرض کے لئے ہو۔ بے مقصد عمل کی شریعت میں اجازت نہیں۔ ۱۴ اگست ۱۹۹۳ قرآن میں صحابہ کے بارہ میں ہے کہ سیما هم فی وجوههم من اثر السجود (الفتح ۲۹) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد پیشانی کا گٹا ہے۔ حالاں کہ اس سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں۔ اس میں اس نشانی کا ذکر ہے جو پورے وجہ (چہرہ) پر ہوتا ہے نہ کہ محض پیشانی کے ایک حصہ پر۔ اگر آدمی نماز کا خصوصی اہتمام کرے۔ نیز وہ رات کے وقتوں میں دیر تک اللہ کے سامنے حالت نماز میں گزارے تو اس سے اس کی روح میں ایک خاص سنجیدگی اور رہبانیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ روحانی کیفیت جتنی زیادہ شدید ہوگی اتنا ہی زیادہ وہ آدمی کے چہرے پر جھلکتی گی۔ آدمی کی چال ڈھال ، اس کا بولنا ، غرض اس کی ہر ادا میں ایک تقیانہ شان پیدا ہو جائے گی۔ یہاں اسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۳ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھا دی گئی اور وہاں عارضی مندر تعمیر کر کے اس کی پوجا شروع کر دی گئی۔ اس کے بعد حالات دیکھتے ہوئے میں نے یہ فارمولا پیش کیا تھا کہ مسلمان ایک مسجد پر چپ ہو جائیں، اور ہندو ایک کے بعد تمام مسجدوں پر چپ ہو جائیں۔ اس پر کچھ مسلم دانشوروں نے میرا مذاق اڑایا۔ ان کے نزدیک سید شہاب الدین کا موقف جرأتمندانہ تھا جو یہ کہتے تھے کہ مسجد دوبارہ وہیں بناؤ۔ مگر حالات نے آخرکار تمام لوگوں کو وہیں پہنچا دیا جو میں نے پیشگی طور پر تجویز کیا تھا۔ چنانچہ اب مسٹر شہاب الدین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page