آغازِ کلام
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ " بابری مسجد کو بھول جائیے میاں، اور جاکر اپنے محلوں کی حفاظت کیجئے ۔ ماہنامہ افکار ملی ، دہلی ، اگست ۱۹۹۴ء ، صفحہ ۴۵ اگست کے دوسرے ہفتہ میں برمنگھم (انگلینڈ) میں تھا۔ آج واپس آیا۔ وہاں جناب شمشاد محمد خاں صاحب نے بتایا کہ خلیجی جنگ (۱۹۹۱) کے شروع ہونے سے کچھ پہلے وامی (WAMI) کے کچھ ذمہ دار حضرات ریاض سے برطانیہ آئے۔ برمنگھم میں انہوں نے الجرہ اسکول کے ہال میں ایک میٹنگ کی۔ اس میں شہر کے خاص خاص مسلمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ میں بھی اس میں موجود تھا۔ یہ آنے والے لوگ سعودی عرب کے کنگ فہد اور امیر کویت کے اس فیصلہ کے خلاف تھے کہ صدام حسین کی جارحیت کا مقابلہ امریکی فوجی مدد کے ذریعہ کیا جائے ۔ مگر وہ اپنی رائے کا اظہار براہ راست خود اپنی طرف سے نہیں کرسکتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اس رائے کو وہ برطانیہ کے مسلمانوں کی طرف سے سعودی حکومت کے سامنے پیش کریں ۔ چنانچہ یہاں سے وہ اس قسم کی ایک تجویز لے کر گئے۔ مگر وہ سعودی حکومت کے لئے قابل قبول نہ ہوسکی۔ عرب ملکوں میں وہاں کے شیوخ اور دانشوروں کی احتیاط کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنی حکومت سے لفظی اختلاف کی جرأت بھی نہیں کرسکتے۔ مگر یہی لوگ دوسرے ملکوں (مثلاً کشمیر ، فلپائن ، بوسنیا ، وغیرہ) میں مسلح ٹکراؤ کی حمایت کرتے ہیں ۔ اور ان کے لئے بڑی بڑی رقمیں بطور امداد فراہم کرتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے یہ تضاد اور کیسا عجیب ہے یہ اسلام ۔ ۱۷ اگست ۱۹۹۳ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب (بنگلور) ملاقات کے لئے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ دو مہینے پہلے بنگلور کی ایک مسجد میں انھوں نے جمعہ کی نماز پڑھی۔ وہاں تقریباً ۲۲ سال کی لڑکا ایک نوجوان عالم امام تھا۔ اس نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ٹیوشن پڑھا کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader