آغازِ کلام
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
رات کو دس بجے مسجد کی طرف آرہا تھا۔ میں ایک اسکوٹر (تھری وہیلر) پر سوار تھا۔ راستہ میں دو ہندو زبردستی اسکوٹر کو روک کر اس پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے میری گھڑی اور نقدی چھین لی اور اس کے بعد ایک مندر میں لے جا کر مجھ سے وہاں بتوں کی پوجا کرائی۔ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب نے کھڑے ہو کر اس کو ڈانٹا اور کہا کہ چپ رہو، تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے تحقیق کرنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ مذکورہ امام صاحب ایک مسلمان تاجر کے یہاں رات کے وقت بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کے لئے جاتے ہیں۔ تاجر نے کسی موقع پر کہا کہ آپ کو مسجد سے یہاں آنے میں زحمت ہوتی ہے۔ میں کوشش کرونگا آپ کے لئے ایک اسکوٹر (ٹو وہیلر) کا انتظام ہو جائے۔ اس کے بعد تاجر غالباً بھول گیا۔ امام صاحب نے تاجر کو متاثر کرنے کے لئے مذکورہ کہانی بنائی اور اس کو تاجر سے بیان کیا۔ تاجر زیادہ ہوشیار نہ تھا۔ اس نے امام صاحب سے کہا کہ آپ اس قصہ کو مسجد میں بیان کریں تاکہ مسلمان رات کو باہر نکلیں تو ہتھیار لے کر نکلیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ آخر میں نے اس امام کو اپنے گھر بلایا اور کوڑا دکھا کر کہا کہ صحیح صحیح بتاؤ، ورنہ ابھی اس کوڑے سے تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا۔ امام نے اعتراف کیا کہ مذکورہ قصہ بالکل فرضی تھا۔ اس نے یہ قصہ صرف اس لئے گھڑا تھا کہ تاجر کو متاثر کر کے اسکوٹر دینے کے لئے آمادہ کر سکے ۔ اسی طرح کے احمق لوگ ہیں جو سارے فسادات برپا کرتے ہیں۔ ۱۸ اگست ۱۹۹۳ غزوہ حنین کے بعد ایک انصاری مسلمان کو شکایت ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کی تقسیم میں ان کو حصہ نہیں دیا۔ اس کا نام عباس بن مرداس تھا۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، وہ ناراض ہو گئے اور رسول اللہ کے خلاف اشعار کہے۔ رسول اللہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : اذہبوابه فاقطعوا عنى لسانه (سيرة ابن هشام ۱۴۷/۲) اصحاب رسول اگر قطع لسان کو لفظی معنی میں لیتے تو وہ چھری لے کر اس کی زبان کاٹنے کے لئے دوڑتے۔ مگر اس کو انھوں نے تمثیل کے معنی میں لیا اور اس کو کچھ مال دے دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader