آغازِ کلام
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں تک کہ وہ راضی ہو کر چپ ہو گیا (فاعطوه حتى رضى ۔ فكان ذالك قطع لسانه الذی امر به رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم) ۴/ ۱۲۱ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کتنے زیادہ باشعور لوگ تھے۔ انھوں نے کسی مدرسہ یا کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ مگر ان کے اندر اللہ کا خوف تھا۔ اللہ کا خوف آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے، اور سنجیدگی بلاشبہ علم کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے (اتقوالله ويعلمكم الله) ۱۹ اگست ۱۹۹۳ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے "ممکن سے آغاز" کے نقطہ نظر کی تائید کی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم کو ابھی تک نقطہ آغاز نہیں ملا۔ آپ کے سامنے ایک بڑی بلڈنگ ہے۔ آپ کو اس کے اندر پہنچ کر اس میں اپنی جگہ بنانا ہے تو سب سے پہلے آپ کو انٹری پوائنٹ Entry point تلاش کرنا ہوگا۔ اگر آپ کو انٹری پوائنٹ ہی نہ ملے تو آپ کو بلڈنگ میں داخلہ کیسے مل سکتا ہے۔ ۲۰ اگست ۱۹۹۳ فتح مکہ کے فوراً بعد وہ غزوہ پیش آیا جس کو غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر کچھ انصار کو یہ شکایت تھی کہ خالد بن ولید ابھی ابھی مکہ سے آ کر مسلمان ہوئے ہیں اور ان کو آپ نے لشکر کا سردار بنا دیا۔ اس سلسلہ میں ایک انصاری عباس بن مرداس نے بہت سے اشعار کہے۔ اس میں اس نے رسول اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آپ نے قوم میں خالد کو امیر بنا دیا (رفان تک قد امرت فی القوم خالداً)، اس شکایت کے باوجود وہ لوگ پوری جان نشاری کے ساتھ ہم میں شریک رہے۔ عباس نے کہا: وقال نبی المؤمنين تقدّموا | وتحبّ الينا ان تكون المقدّما اور مسلمانوں کے پیغمبر نے کہا کہ آگے بڑھو تو ہم کو یہ بات محبوب ہو گئی کہ ہم سب سے آگے بڑھ کر مقابلہ کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader