Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے۔آئے ۔ اس سے پہلے ۹ فروری کو امریکی سفارت خانہ کی خاتون فرسٹ سکریٹری مار سیا بر نیکاٹ (Ms Marcia Bernicat) آئی تھیں۔ ان لوگوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ پر گفت گو کی۔ خاص طور پر ۶ دسمبر کے بعد پیش آنے والے حالات پر۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ گفتگو میں نہایت سنجیدہ تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی قسم کی سنجیدگی مسلمانوں کے اعلیٰ طبقہ میں نظر نہیں آتی۔ حالاں کہ یہ خود مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور مسلمانوں ہی کو اس معاملہ میں سب سے زیادہ سنجیدہ ہونا چاہئے۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۳ء آج رمضان المبارک ۱۴۱۳ھ کی پہلی تاریخ ہے۔ روزہ کے مہینہ میں میں اس طرح داخل ہو رہا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے دل میں ہندوؤں کی بے پناہ محبت ڈال دی گئی ہے۔ روزہ کے پہلے دن میرے دل سے جو کیفیت بھری ہوئی دعا نکلی وہ یہ تھی کہ خدایا، تو ہندوؤں کو ہدایت کی توفیق دے۔ خدایا، تو ہندوؤں کے لئے جنت کے دروازے کھول دے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس بار رمضان کی آمد پر میرے دل سے جو پہلی دعا نکلی وہ یہی تھی۔ ۲۵ فروری ۱۹۹۳ء آج روزہ کا دوسرا دن ہے۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ روزہ شاید اسی لئے فرض کیا گیا ہے کہ آدمی کو یہ احساس ہو کہ رزق کتنی بڑی نعمت ہے۔ نعمت کا جتنا زیادہ احساس ہو اتنا ہی زیادہ شکر آدمی کے اندر ابھرے گا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے روزہ سے زیادہ مؤثر کوئی طریقہ نہیں۔ کھانا اور پانی انتہائی غیر معمولی نعمتیں ہیں۔ مگر عام حالات میں آدمی کو اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ رزق کی فراوانی ہے۔ ایک غریب آدمی بھی اپنے لئے کسی نہ کسی طرح کھانا اور پانی حاصل کر لیتا ہے۔ اگر روزہ رکھنے کا طریقہ نہ ہو تو بہت کم لوگوں کو بھوک اور پیاس کا وہ طویل تجربہ ہو جو کھانا اور پانی کی غیر معمولی اہمیت سے آشنا کرنے کے لئے ضروری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page