Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 321

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے قومی آواز (۲۱ اگست) کے حوالے سے کہا کہ کل راجیو گاندھی کی یاد میں نئی دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں ایک تقریب ہوئی۔ اس کا اہتمام آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے کیا تھا۔ وزیراعظم نرسمہا راؤ منچ پر بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس وقت سونیا گاندھی منچ کے نیچے اگلی صف میں ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی وزیراعظم اٹھے اسٹیڈیم کے ہر کونے سے کانگریس کے کارکنوں کی آوازیں آنے لگیں۔ یہاں تک کہ وزیراعظم کئی منٹ تک چپ چاپ کھڑے رہے۔ وہ کچھ بول نہ سکے۔ مذکورہ صاحب نے بتایا کہ اس وقت کا نگریسی کارکن یہ نعرہ لگا رہے تھے: "سونیا جی لیڈر شپ سنبھالو۔" مجھے یہ بات عجیب سی لگی۔ میں نے تحقیق کے لئے مذکورہ اخبار کو دیکھا۔ معلوم ہوا کہ کانگریسیوں کا یہ نعرہ تھا: سونیا جی اسٹیج پر آؤ۔ یہ ایک سادہ سی بات تھی۔ کیوں کہ سونیا راجیو گاندھی کی بیوہ ہیں اور ان کو اس تقریب میں اسٹیج پر ہونا چاہئے۔ مگر چند الفاظ کی تبدیلی سے بات کچھ سے کچھ ہو گئی۔ اسی لئے شریعت میں حکم ہے کہ کوئی بات سنو تو اس کو ماننے سے پہلے اس کی تصدیق کر لو۔ ۲۲ اگست ۱۹۹۳ء انڈیا کے موجودہ پریذیڈنٹ ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے ایک ہندی اخبار دینگ ہندوستان کو ایک انٹرویو دیا۔ انٹرویو کے دوران ان کی زیر تالیف آپ بیتی کا ذکر ہوا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ میرا مزاج تنقیدی نہیں ہے۔ میرا قلم کسی کو دکھ نہیں دے گا۔ اس کا ترجمہ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز (۲۲ اگست) میں چھپا ہے۔ اس میں مذکورہ جملہ کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: (My pen will pain nobody) انگریزی ترجمہ میں ان کے جملہ میں ایک ادبی لطف پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن یہ کسی ایک زبان کی خصوصیت نہیں۔ اس قسم کی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان دیہاتی بولیوں میں بھی جو محدود پیمانہ پر صرف بول چال میں استعمال ہوتی ہیں، جو ابھی تک لٹریری زبان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page