Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

کا درجہ حاصل نہیں کرسکتیں۔ آج کے ہندوستان ٹائمیں میں صفحہ ۱۵ پر پورے صفحہ کا ایک اشتہار نظر سے گزرا۔ یہ ماروتی کار بنانے والی کمپنی کی طرف سے ہے۔ اس میں ماروتی کے نئے ماڈل اسٹیم (Esteem) کی خوبصورت تصویر ہے اور اس کے نیچے لکھا ہوا ہے۔ ماضی میں جینا چھوڑئیے : (Stop living in the past) یہ گویا دورِ جدید کا کلمہ ہے۔ آج کے انسان کی عمومی فکر یہ ہے کہ پہلے کے فرسودہ طریقے چھوڑو، نئے بہتر طریقے اختیار کرو۔ یہ مزاج اصلا اور ابتدا ً مادی سازوسامان کے بارہ میں پیدا ہوا۔ اس حد تک وہ درست تھا۔ مگر پھر بڑھتے بڑھتے وہ مذہب و اخلاق تک پہنچ گیا۔ یہ اس کے لئے حد سے تجاوز کے ہم معنی تھا۔ زندگی کے اسباب میں بلاشبہ تبدیلیاں ہوتی ہیں اور وہ مطلوب ہیں۔ مگر زندگی کی قدریں ناقابل تغیر ہیں اور مذہب اسی نوعیت کی دوسری چیز ہے۔ ۲۳ اگست ۱۹۹۳ محمد حسین کی کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام ہے : حصوننا مهددة من داخلها۔ یعنی ہمارے قلعے اندرون سے خطرے میں ہیں۔ اس عربی کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ امت مسلمہ لمبی مدت سے مختلف قسم کے خطرات سے دوچار ہے۔ اب تک ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ ان کا سر چشمہ خارج کو قرار دیتے رہے ہیں۔ جب کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم کو جو خطرہ لاحق ہے وہ اندر سے ہے نہ کہ باہر سے۔ ہمارے اندر اسلامی نام رکھنے والے اور بظاہر اسلامی لباس پہنے والے ایسے کثیر افراد موجود ہیں جو تخریبی عزائم رکھنے والے خارجی عناصر کے لئے معاون اور آلہ کار کا کام کر رہے ہیں۔ یہ افراد جب تک امت کے مراکزِ نفوذ اور پالیسی سازی کے مقامات پر موجود رہیں گے۔ خارجی دشمن ان کے ذریعہ مسلم دنیا کو اپنی سازش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page