Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

کاشتکار بناتا رہے گا۔ بہت سے مسلم دانشور اور علماء اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ مگر یہ نہایت سطحی سوچ ہے۔ بالفرض اگر اس کو حقیقت مان لیا جائے تب بھی میں کہوں گا کہ ایسے افراد ہر قوم میں اور ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ وہی قوم اس دنیا میں ترقی کرتی ہے جو اس قسم کے موانع کے باوجود آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس قسم کے موانع کبھی کسی کے لئے ختم نہیں ہوتے پھر وہ ہمارے لئے کیوں ختم کر دئے جائیں گے۔ پاکستان، ایران اور دوسرے ملکوں میں دشمن عناصر کی صفائی کے نام پر ہزاروں مسلمان مار ڈالے گئے۔ پھر کیا ان ملکوں میں صالح معاشرہ اور صالح حکومت قائم ہوگی۔ ۲۵ اگست ۱۹۹۴ ساؤتھ افریقہ کے مشہور مناظر جناب احمد دیدات صاحب امریکہ گئے۔ وہاں کسی پادری سے ان کا مناظرہ ہوا۔ پادری نے کہا کہ آپ باہر سے امریکہ میں آئے ہیں۔ یہاں آپ ہر شہر میں جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم مکہ اور مدینہ میں کیوں نہیں جا سکتے۔ احمد دیدات صاحب نے کہا کہ بہت آسان بات ہے۔ میں امریکہ میں ایک فارم کو بھرنے کے بعد داخل ہوا ہوں اسی طرح ہر ملک میں داخلہ کا مقررہ قاعدہ ہے۔ مکہ اور مدینہ میں داخل ہونے کا بھی ایک سادہ سا قاعدہ ہے۔ آپ کہئے: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور آپ کو مکہ اور مدینہ میں داخلہ مل جائے گا۔ اس مناظرانہ گفتگو کا ویڈیو ریاض کے ایک سعودی شیخ نے دیکھا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے احمد دیدات کو اپنے خرچ پر ریاض بلایا۔ ان سے گفتگو کی۔ اور ان کو دو ملین ڈالر کا چیک دے دیا۔ حالاں کہ احمد دیدات صاحب کا جواب محض ایک لطیفہ تھا نہ کہ جواب۔ کیوں کہ پادری دوبارہ کہہ سکتا تھا کہ آپ امریکہ میں اس طرح داخل ہوئے ہیں کہ آپ نے صرف اپنی موجودہ آئیڈینٹی کو ڈکلیئر کیا ہے۔ جب کہ آپ مکہ مدینہ میں داخلہ کی یہ شرط لگا رہے ہیں کہ تم اپنی موجودہ آئیڈینٹی کو چینج کرو ۔۔۔۔ شاعروں اور لطیفہ گویوں کو بڑی بڑی رقمیں دینا پہلے بھی تھا اور اب بھی مزید اضافہ کے ساتھ جاری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page