آغازِ کلام
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم دانشوروں کی عام شکایت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد ۱۵ فیصد ہے پھر سرکاری سروسوں میں ان کی تعداد صرف ایک فیصد کیوں ، کیا یہ ظلم اور تعصب نہیں۔ مزید یہ کہ یہ بات وہ لوگ کہتے ہیں جو خود برسرِ روزگار ہیں۔ یہ شکایت سراسر بھول ہے۔ ۱۹۳۷ سے پہلے مسلمان سرکاری ملازمتوں میں بھرے ہوئے تھے۔ اس کے بعد مسلمانوں کا خروج exodus شروع ہوا۔ ۱۹۳۷ میں ہزاروں کی تعداد میں برسر ملازمت نیز اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ اس طرح اچانک خلا پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب اور پٹرول کے ظہور کے نتیجہ میں باہر کے شاندار مواقع کھلے۔ مسلمان مسلسل ایک طرف عرب ملکوں میں اچھی تنخواہوں کے لئے جانے لگے ۔ دوسری طرف اس محرک کے تحت بہت بڑی تعداد میں یورپ اور امریکہ چلے گئے ۔ آج تک یہ صورتِ حال ہے کہ جس پڑھے لکھے آدمی کو موقع ملتا ہے وہ فوراً باہر چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہاں انڈیا سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ یہی تعلیم یافتہ لوگ ہی تو سروسوں میں لئے جاتے ہیں۔ جب سروس کے قابل افراد باہر چلے جائیں تو آخر کن لوگوں کو سروس دی جائے گی ۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے یہ بات کہی۔ ۲۷ اگست ۱۹۹۲ دو سو سال پہلے مالتھس نے حساب لگا کر بتایا تھا کہ انسان کی پاپولیشن میں اضافہ سے ہو رہا ہے۔ جبکہ خوراک میں اضافہ اس کے برعکس صرف Geometrical rate سے ہوتا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ زمین پر صرف تین بلین انسانوں کے arithmetical rate بسنے کی گنجائش ہے۔ اس لئے موجودہ رفتارِ آبادی کو روکنا ضروری ہے۔ ورنہ بہت جلد بڑھی ہوئی آبادی کے لئے دنیا کے وسائل نا کافی ہو جائیں گے ۔ اور لوگ بھوکھوں مرنے لگیں گے۔ رابرٹ مالتھس کی مذکورہ کتاب ۱۷۹۸ء میں چھپی تھی ۔ اب اس پر دو سو سال پورے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader