آغازِ کلام
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو رہے ہیں ۔ اس دوران انسانی آبادی اگنا سے زیادہ ہو چکی ہے ۔ یعنی اس سے بہت زیادہ جتنا مالتھس کے اندازہ کے مطابق زمین پر گنجائش تھی ۔ اس تجربہ نے قرآن کے الفاظ نحن نرزقہم و ایّاکم (الاسراء، ۳۱) کی صداقت کو از سر نو ثابت شدہ بنا دیا ہے۔ یہ بات میں نے بی بی سی کے نمائندہ کو ایک انٹرویو میں بتائی ۔ وہ ستمبر ۱۹۹۴ میں ہونے والی قاہرہ کا نفرنس کے لئے انٹرویو لینے آئے تھے ۔ یہ انٹرنیشنل کانفرنس اقوام متحدہ کے تعاون سے پاپولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے موضوع پر ہو رہی ہے۔ ۲۸ اگست ۱۹۹۳ نوائے وقت (۱۸ اگست ۱۹۹۳) کے صفحہ اول پر نواز شریف کی ایک تقریر اس سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے: عوام نے مجھے حکومت کے خلاف جہاد کا حکم دیا ہے۔ یہی مزاج پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے جس کی وجہ سے پاکستان نصف صدی بعد بھی ترقی نہ کر سکا۔ وہاں کا حال یہ ہے کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی سے لے کر نواز شریف تک ہر ایک کے نزدیک سیاست یہ ہے کہ الیکشن میں جب ہار جائو تو جیتے ہوئے کو ڈائون کرنے کا ہنگامہ شروع کر دو۔ کسی قوم یا ملک کی ترقی کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہاں مستحکم حکومت (stable government) قائم ہو۔ اسی لئے اسلام میں قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مگر پاکستان کے سطحی سیاست دانوں کو اس کے سوا کوئی اور سیاست معلوم ہی نہیں۔ ۲۹ اگست ۱۹۹۳ اعظم گڑھ میں مشاعرہ تھا۔ جگر مراد آبادی (۱۹۶۰ - ۱۸۹۸) اور اقبال احمد سہیل (۱۹۵۰ - ۱۸۸۷) دونوں اس میں موجود تھے۔ جگر مراد آبادی نے اپنی ایک غزل سنائی۔ اس میں یہ شعر تھا: اندازہ ساقی تھا کس درجہ حکیمانہ ساغر سے اٹھیں موجیں بن کر خط پیمانہ اقبال احمد سہیل نے اس شعر کی بہت داد دی۔ جگر مراد آبادی نے پوچھا کہ آپ نے اس شعر کی اتنی زیادہ داد دی۔ اس میں کیا بات آپ کو پسند آئی۔ سہیل صاحب نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader