آغازِ کلام
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں تمثیل کی زبان میں فیض به قدر استعداد کا اصول بتایا گیا ہے۔ مولانا ابوالکلام ندوی (۱۹۸۳ء - ۱۸۹۱) بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے جگر سے پوچھا کہ کیا آپ کے شعر کا یہی مطلب ہے۔ جگر نے جواب دیا : ابھی تک تو نہیں تھا ، مگر اب یہی ہے۔ (معارف اگست ۱۹۹۴ء ) ۳۰ اگست ۱۹۹۴ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۱۱ اگست ۱۹۹۴ء) میں ایک عرب خاتون کا مختصر مضمون چھپا ہے۔ خاتون نے اپنا نام نہیں بتایا ہے ، صرف "مسلمة" لکھا ہے۔ اس میں وہ حجاب کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتی ہیں : يا اعداء الاسلام ، نحن نفخر بالحجاب ونعتز به ولن نسع نمیقکم ابداً (اے اسلام کے دشمنو ، ہم کو اپنے حجاب پر فخر و ناز ہے اور اس معاملے میں ، ہم تمہاری چیخ پکار کبھی نہیں سنیں گے )۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلمان اسی طرح کی بولی بولتے ہیں۔ حالاں کہ حجاب یا اسلام کی تعلیمات اطاعت کے لئے ہیں نہ کہ فخر و ناز کے لئے۔ موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بظاہر تو اسلام کی زبردست دھوم ہے مگر اسلام کی حقیقی اسپرٹ کہیں موجود نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کو لوگوں نے قومی جذبہ کے تحت اختیار کیا ہے نہ کہ اسلامی جذبہ کے تحت۔ قومی دین فخر پیدا کرتا ہے اور خدائی دین تقویٰ۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۴ پاکستان کی چھپی ہوئی ایک کتاب دیکھی اس کا نام تھا: عددی اعجاز القرآن ۔ اس کے آخر میں پر فخر طور پر ظفر علی خاں کا یہ شعر نقل کیا گیا تھا : اونٹوں کے چرانے والوں نے اس شخص کی صحبت میں رہ کر قیصر کے تخت کو روند اکسری کا گریبان چاک کیا رسول اللہ کی صحبت نے صحابہ کو اللہ سے ڈرنے والا اور انسانوں پر شفقت کرنے والا بنایا تھا۔ مگر مذکورہ شعر پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی صحبت لوگوں کو جنگجو بناتی تھی۔ کس قدر فرق ہے مسلمانوں کے اسلام میں اور خدا اور رسول والے اسلام میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader