Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 327

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم ستمبر ۱۹۹۲ حدیث کی کتابوں میں متعین الفاظ میں یہ روایت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح عائشہؓ سے ۷ سال کی عمر میں ہوا، اور ۹ سال کی عمر میں رخصتی ہوئی۔ مگر بعض قرائن اس کی تائید نہیں کرتے۔ انھیں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد خولہ بنت حکیم آپ کے پاس آئیں اور آپ کی اجازت سے عائشہ کے نکاح کا پیغام لے کر حضرت ابو بکرؓ کے پاس گئیں۔ اس کو سن کر حضرت ابو بکرؓ نے کہا : و هل تصلح له ـ انما هي ابنة اخیه ۔ کیا عائشہ کا رشتہ آپ کے ساتھ درست ہوگا۔ وہ تو ان کے بھائی کی لڑکی ہے۔ خولہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی تو آپ نے فرمایا کہ رشتہ درست ہے کیوں کہ ابو بکر میرے دینی بھائی ہیں نہ کہ خونی بھائی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے جس طرح مذکورہ شبہ ظاہر کیا ، اسی طرح وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ وہ تو چھ سال کی بچی ہے۔ ابھی اس کی عمر نکاح کی نہیں ہوئی۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کہا۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ مذکورہ شبہ رفع ہونے کے بعد حضرت ابو بکر نے دوسری بات یہ بھی کہ عائشہ کے رشتہ کے لئے میری بات مطعم بن عدی سے اس کے بیٹے کے لئے ہو چکی ہے، اور ابو بکر نے کبھی آج تک وعدہ خلافی نہیں کی۔ چنانچہ اس کے بعد وہ مطعم بن عدی کے پاس گئے اور اس سے اس کے پیغام کی بابت پوچھا۔ مطعم اور اس کی بیوی دونوں نے کہا کہ ہم کو شبہ ہے کہ تم کہیں میرے بیٹے کو صابی (مسلمان) نہ بنا دو۔ اس کے بعد مطعم سے وعدہ کا معاملہ ختم ہو گیا اور حضرت ابو بکر نے رسول اللہ سے عائشہؓ کا نکاح کر دیا۔ (سیرۃ ابن کثیر (۲۳/۲ - ۱۴۲۷ یہاں بھی یہ سوچنے کی بات ہے کہ مطعم نے جب اپنے لڑکے کے نکاح کا پیغام عائشہ کے لئے دیا تو اس وقت وہ قابل نکاح عمر کے قریب پہنچ چکی ہوں گی۔ اگر ایسا نہ ہو تو رس مطعم نکاح کا پیغام دیں گے اور نہ ابو بکر اس کو قبول کریں گے۔ خولہ اور رسول اللہ اور ابو بکر اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page