Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

مطعم اور دوسرے متعلق اشخاص دوسری باتیں تو کہتے ہیں مگر ان میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اتنی کم عمر لڑکی سے نکاح کا کیا سوال۔ کچھ مسلمانوں کے بارے میں ایک المناک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ آگئے: موجودہ زمانہ میں لوگوں کو اپنے جھوٹ پر جتنا یقین ہے، اصحاب رسول کو اپنے سچ پر بھی اتنا یقین نہیں ہوتا تھا۔ ۳ ستمبر ۱۹۹۳ نوائے وقت (۲۳ اگست ۱۹۹۳) میں چھپے ہوئے مضمون میں یہ جملہ تھا کہ" پاکستان نتیجہ تھا مسلمانوں کی مشترکہ جد و جہد کا" اس کے برعکس کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نتیجہ تھا انگریز کی تفریقی سیاست کا۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان نتیجہ تھا ہندو قوم کی اسلام دشمن سازش کا۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب (لاہور) اس سے بھی آگے جا کر کہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام خالص خدائی تدبیر تھی۔ (میثاق، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸) پاکستان ۱۹۴۷ میں سخت ہنگامہ خیز سیاست کے درمیان بنا۔ اتنے جدید اور اتنے نمایاں واقعہ کے بارے میں اتنی زیادہ مختلف رائیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخ کی تعبیر کا کام کتنا زیادہ مشکل کام ہے۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۳ ایک ہندو جرنلسٹ جو بہت زیادہ سیکولر ہیں اور بہت زیادہ تنقیدی مضامین لکھا کرتے ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ سیکولر بنئے، مگر آئیڈیلسٹ نہ بنے۔ کیوں کہ آئیڈیلزم کبھی دنیا میں نہیں چلتا۔ آپ خود اپنی ذاتی زندگی میں بھی آئیڈیلزم پر نہیں چل سکتے پھر دوسروں کو آپ کیوں ہمیشہ آئیڈیل سے ناپتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس اعتبار سے میں دیکھتا ہوں تو تمام دانشور مجھے کوڈ بل اسٹینڈرڈ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے ذاتی معاملات میں ہمیشہ عملی پہلوؤں (practical reasons) کا لحاظ کرتے ہیں۔ مگر جب دوسروں کے بارہ میں لکھتے یا بولتے ہیں تو فوراً وہ آئیڈیلسٹ بن جاتے ہیں۔ اسی کے بارہ میں شیخ سعدی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page