Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا ہے کہ: ہرچہ بر خود پسند ی بر دیگر اں پسند۔ "ٹائمس آف انڈیا (۵ ستمبر) میں ایک اجتماع کی رپورٹنگ ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کارڈ یا لوجی کے ہیڈ ڈاکٹر ایچ ایس واسر (H. S. Wasir) نے ایک لیکچر میں بتایا کہ صعوبت کی ایک مناسب مقدار زندگی کے لئے ضروری ہے۔ زندگی کا عمل در اصل صعوبت پر رد عمل کا نام ہے: علم النفس اور میڈیکل سائنس کی یہ جدید دریافت قرآن کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ہم نے مشقت میں پیدا کیا (لقد خلقنا الانسان فی کبد) یعنی انسان کو ایسے حالات میں رکھا گیا ہے اور اس کی تشکیل اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ اس کو لازماً صعوبتوں اور مشقتوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ انسان کے اوپر ظلم نہیں ہے، بلکہ اس کی ترقی اور کامیابی کا زینہ فراہم کرنا ہے۔ کیوں کہ اس سے آدمی کے اندر سہارے نے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اس کی خفتہ صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ پیٹ سے وہ انسان پیدا ہوتا ہے مگر جب وہ زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ سپر انسان بن جاتا ہے۔ ۶ ستمبر ۱۹۹۳ سب سے بڑی عقل کی بات کیا ہے جو آدمی کی پوری زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بن جائے ۔ سب سے بڑی عقل کی بات صرف ایک ہے، اور وہ موت ہے۔ آدمی اگر اپنی موت کو یاد کرے تو وہ کبھی حد سے باہر نہ جائے ، وہ کبھی سرکشی اور ظلم کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ تمام برائیوں کی جڑ حد سے تجاوز ہے، اور موت کا ڈر اسی تجاوز کے خلاف سب سے بڑا روک۔ موت سے مراد سادہ طور پر انتہا حیات نہیں ہے۔ بلکہ زندگی کا وہ اگلا مرحلہ ہے جہاں آدمی اپنے عمل کا حساب دینے کے لئے پہنچا دیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page