Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما میرے نزدیک نہایت برے رہنما ثابت ہوئے ہیں۔ اصل رہنمائی یہ تھی کہ وہ جدید امکانات کو دریافت کرتے اور پھر مسلمانوں سے کہتے کہ تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ مگر ان رہنماؤں نے نہایت غیر دانشمندانہ طور پر مسلمانوں کو جنگ اور ٹکراؤ کے راستہ پر ڈال دیا، کسی نے براہ راست ٹکراؤ کی تعلیم دی اور کسی نے بالواسطہ طور پر۔ اس کے سوا ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان پچھلے تقریباً دو سو سال سے لڑنے بھڑنے میں یا لڑائی کی بات کرنے میں مشغول ہیں۔ ابتداً یہ جنگ غلامی اور آزادی کے نام پر لڑی گئی۔ اس کی ایک مثال ہندوستان ہے۔ اس کے بعد یہ جنگ نظام باطل کی جگہ نظام اسلام قائم کرنے کے نام پر ہونے لگی۔ اس کی ایک مثال مصر ہے۔ اب یہ جنگ تقسیم اقتدار کے لئے شروع ہو گئی ہے، جس کو افغانستان کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس احمقانہ جنگ و جدال کا خاتمہ صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے ذہن کو دعوت کی طرف موڑ دیا جائے ۔ دعوت کا عمل ہی ہر اعتبار سے مسلمانوں کے لئے صحیح ترین عمل ہے۔ میں اسی کے لئے ۲۵ سال سے کوشش کر رہا ہوں۔ مگر یہاں یہ شدید رکاوٹ حائل ہے کہ موجودہ زمانہ کے نااہل مسلم مفکرین اور مسلم رہنماؤں نے جس انداز میں مسلمانوں کو حالات کا مطالعہ کرایا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب تمام قومیں مسلمانوں کو دشمن کے روپ میں دکھائی دینے لگی ہیں۔ وہ اپنی مدعو قوموں سے متنفر ہو گئے ہیں۔ اور داعی اگر اپنے مدعو سے متنفر ہو جائے تو اس کے اندر دعوت کا جذبہ ہی صحیح طور پر پیدا نہیں ہوگا۔ ۸ ستمبر ۱۹۹۳ ابو جرمی جابر بن سلیم ایک صحابی ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : لَا تَسُبَّنَّ اَحَدًا (ابوداؤد، ترمذی) یعنی تم کسی کو بھی ہرگز گالی نہ دو۔ صحابی کہتے ہیں کہ اس نصیحت کو میں نے اس طرح پکڑ لیا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page