آغازِ کلام
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۵ فروری کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریلی کا دن تھا۔ اس کا اعلان تھا کہ وہ پانچ لاکھ آدمیوں کو بوٹ کلب (نئی دہلی) میں جمع کرے گی۔ لیکن گورنمنٹ نے پولیس کا غیر معمولی انتظام کر کے ریلی کو ناکام بنا دیا۔ آنے والے بیشتر لوگ دہلی کی سرحد پر روک کر لوٹا دیئے گئے۔ ایک لاکھ آدمی گرفتار کر لئے گئے۔ ٹائمس آف انڈیا ۲۶ فروری کی پہلی سرخی تھی : Rally flops انڈیا کی سطحی سیاست اب جلوس اور ریلی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ہندستان ٹائمس (۲۲ فروری) میں را جیور دھون نے درست طور پر لکھا تھا کہ پرانا مثل تھا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اب سیاست کی دنیا میں یہ مثل اس طرح ہو گئی ہے کہ ، جس کی ریلی اس کا راج : Indian politics drifts into rally-raj. سیاسی زندگی میں جب گھراوٹ آ جائے تو اس کے بعد اس کو روکا ممکن نہیں ہوتا، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام تک پہنچ جائے۔ ایسی حالت میں سمجھ میں نہیں آتا کہ انڈیا کے مستقبل کی مثبت تعمیر کس طرح کی جاسکے گی۔ ۲۷ فروری ۱۹۹۳ سید حامد آئی اے ایس (سابق وائس چانسلر ، مسلم یونیورسٹی) کا ایک مضمون بعنوان "کچھ اپنے بارے میں" قومی آواز (۲۶ فروری) میں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ "کئی سال ہوتے میں نے ایک انگریزی اخبار کی مہم کو لے کر سارا ملک چھان ڈالا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم عوام و خواص نے اخبار کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ اور جو مالی مدد انہوں نے دی وہ بہت ناکافی تھی ۔" واضح ہو کہ انگریزی اخبار کی اس تحریک میں مولا نا ابوالحسن علی ندوی اور دوسرے بہت سے لوگ شریک تھے۔ اس کے باوجود اس کا یہ حال ہوا۔ دوسری طرف اسی ملک میں کچھ لوگ شوسینا کے مقابلہ میں آدم سینا اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے مقابلہ میں اسلامی سیوک سنگھ بنانے کا اعلان کرتے ہیں تو مسلم اصحاب خیران کو ڈوروں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader