Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد میں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی، نہ کسی آزاد کو اور نہ کسی غلام کو اور نہ کسی اونٹ کو اور نہ کسی بکری کو۔ گالی کا ایک مطلب وہ ہے جس کے لئے یہ لفظ معروف ہے۔ مگر ایسے فحش کلمات صرف جاہل لوگ اپنی زبان سے نکالتے ہیں۔ زیادہ عام "گالی" وہ ہے جس کو الزام اور تنقید کہا جاسکتا ہے۔ یعنی کسی کو برا بتانا، بغیر اس کے کہ اس کی دلیل دی گئی ہو۔ کسی کے اوپر بھی تنقید کی جائے تو یہ جائز اور مفید ہے۔ لیکن اگر کسی کے خلاف محض الزامی ریماک دیا جائے، مثلاً یہ کہا جائے کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار ہے، تو یہ گالی ہے، بلکہ گالی سے بھی زیادہ برا۔ 9 ستمبر 1993 ہارورڈ یونیورسٹی (امریکہ) کے پروفیسر سموئل ہنٹنگٹن (Samuel Huntington) کا ایک آرٹیکل فارین افیئرس کے شمارہ ستمبر 1993 میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا تہذیوں کا تصادم (clash of civilisations) اس آرٹیکل کا ایک جزو لندن کے ہفت روزہ دی اکانومسٹ (۲۷ اگست 1993) نے نقل کیا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا کہ اسلام خونیں سرحدیں رکھتا ہے : Islam has bloody borders. اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کے پڑوس میں ہوں ان کے لئے امن کی زندگی ممکن نہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جس اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ واللہ لا يؤمن واللہ لا يؤمن واللہ لا يؤمن الذی لا يأمن جارہ بوائقہ ۔ اس اسلام کے بارہ میں کہنے والے ایسی بات کہہ رہے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اس کو ہم دشمن کا مخالفانہ پروپیگنڈا کہہ کر اس کے خلاف شور و غل کریں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ اسلام کو اور مسلمان کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ یہ اقرار کیا جائے کہ اسلام پرامن ہمسائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کسی مقام پر مسلمانوں کے پڑوسیوں کو مسلمانوں سے تشدد کا تجربہ ہو تو اس کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے نہ کہ اسلام پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page