آغازِ کلام
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلامی احکام کی جو ترتیب نزول ہے ، وہی ان احکام کی ترتیب تکلیف بھی ہے۔ یعنی دور اول میں جن حالات میں جو احکام اترے وہ حالات جن مسلمانوں کے ہوں ، وہ ان احکام کے مکلف ہوں گے۔ بقیہ احکام ان کے لئے عملی طور پر اسی طرح منسوخ رہیں گے جس طرح وہ دور اول کے مسلمانوں کے لئے منسوخ یا غیر مطلوب رہے۔ کوئی حکم نہ ابدی طور پر منسوخ ہے اور نہ کوئی حکم غیر منسوخ۔ یہ سارا معاملہ (applicability) کے اوپر منحصر ہے۔ جو حکم حالات کے اعتبار سے قابل عمل ہے وہ غیر منسوخ ہے اور جو حالات کے اعتبار سے ناقابل عمل ہے وہ منسوخ ۔ گویا نسخ کا سارا معاملہ مکلف کے اعتبار سے ہے نہ کہ عمومی طور پر شریعت کے اعتبار سے۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۹۳ ۱۴ھ (۶۳۶ء) میں مسلمان ایرانی علاقہ میں داخل ہو رہے تھے۔ ایران کے فوجی سربراہ رستم نے مسلمانوں کو گفت و شنید کی دعوت دی۔ مسلم فوج کے سربراہ سعد بن ابی وقاص نے اس سلسلہ میں کئی وفود رستم کے پاس بھیجے۔ اس میں سے ایک ربعی بن عامر الطائی تھے۔ ربعی بن عامر رستم کے دربار میں بے خوف داخل ہوئے۔ رستم کے سوال پر انھوں نے جو تقریر کی ، اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اللہ ہم کو یہاں لایا ہے ، اور وہ اس لئے لایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو دنیا کی تنگی سے نکال کر دنیا کی وسعت میں لے آئیں (ان اللہ جاء بنا لنخرج الناس من ضيق الدنيا الى سعتها، البدایہ والنہایہ ۴/ ۳۹) یہ گفتگو القادسیہ میں ہوئی, جواب عراق میں شامل ہے (۱/ ۲۷۳) دنیا تمام وسعتوں کے باوجود کیوں تنگ ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ پہاڑ کو بڑا سمجھ لیں تو سمندر کو بڑا سمجھنے والے انھیں اپنے سے الگ دکھائی دیں گے۔ کچھ لوگ سفید فام نسل کو اونچا فرض کر لیں تو وہ سیاہ فام نسل سے جدا ہو جائیں گے۔ اس طرح انسانیت بے شمار ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔ جاہلیت کی حالت میں لوگ غیر مشترک برائیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader