Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 333

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بٹے ہوئے ہیں۔ مگر جب وہ توحید کو پاتے ہیں تو سب کے سب ایک ہی مشترک بڑائی کے سایہ میں آجاتے ہیں۔ سب ایک ہی عظیم تر حقیقت میں یکساں طور پر جینے لگتے ہیں۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۹۳ء لاہور کے روزنامہ نوائے وقت کا شمارہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۳ میرے سامنے ہے۔ اس کے صفحہ اول کی پہلی خبر کی جلی سرخی یہ ہے: فرقہ وارانہ کشیدگی میں غیر ملکی ہاتھ ہے، صدر فاروق احمد لغاری۔ اس کے نیچے دوسری سرخی ہے: برانڈرتھ روڈ (لاہور) پر بنک میں ڈاکہ، ۴۴ افراد کو یرغمال بنا کر ۶۰ لاکھ روپے لوٹ لئے۔ پاکستانی اخباروں میں ہر روز اس قسم کی خبریں چھپتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ٹکراؤ زوروں پر ہے۔ اسی کے ساتھ لوٹ مار بھی انتہائی حد تک بڑھی ہوئی ہے۔ یہ فرقہ وارانہ ٹکراؤ کن لوگوں کے درمیان ہے۔ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان ہے۔ اسی طرح لوٹنے والے کس کا مال لوٹ رہے ہیں۔ وہ غیر مذہب والوں کا مال نہیں لوٹ رہے ہیں بلکہ مسلمان خود مسلمانوں کا مال لوٹنے میں مصروف ہیں۔ علامہ اقبال اور مسٹر جناح جیسے لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ سارے مسائل کی جڑ مسلمانوں اور ہندوؤں کا مشترک ملک ہے۔ اگر دونوں کے الگ الگ بنا دئے جائیں تو اس قسم کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ اس نظریہ کے تحت غیر معمولی قربانی کے ذریعہ پاکستان بنایا گیا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہی تمام جھگڑے شدید تر انداز میں خود مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان جاری ہوگئے جو پہلے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نسبتاً کمی کے ساتھ ہورہے تھے۔ ۱۲ ستمبر کو میں اٹلی میں تھا۔ وہاں نصرت کے عجیب و غریب تجربات ہوئے۔ مثلاً میں اس اندیشہ میں تھا کہ شاید ایئر پورٹ پر کوئی میری مدد کے لئے موجود نہ ہوگا۔ اور میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page