آغازِ کلام
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
سخت مصیبت میں پڑ جاؤں گا۔ مگر روم کے ایئر پورٹ پر جب میں جہاز سے باہر نکلا تو تین دروازہ پر ایئرپورٹ کی ایک خاتون کارکن میری مدد کے لئے موجود تھی۔ کچھ دور آگے لے جا کر اس نے مجھے ایک اور خاتون کے حوالے کیا۔ پھر اس نے مجھے وی آئی پی لاؤنج میں پہنچایا۔ جہاں میرے مساعد ڈاکٹر اندر یہ دلو کا میرے منتظر تھے۔ اور وہاں ہر طرح کا سامان موجود تھا۔ پھر وہاں سے نکلے تو کئی بند دروازے سے گزرنا تھا۔ مجھے کچھ کہنا نہیں پڑا۔ ایک آدمی کنجی لئے ہوئے اپنے آپ ہر دروازہ کھولتا چلا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر دلو کا نے مجھے ایک جرمن کار پر بٹھایا۔ اس کار پر مجھے ڈھائی گھنٹہ کا سفر طے کر کے اسپین پہنچنا تھا۔ کار اتنی تیزی سے چلی کی وہ راستہ کی تمام کاروں کو پیچھے چھوڑتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ سب سے آگے نکل کر مجھ کو منزل پر پہنچایا۔ اس تجربہ کے بعد میں بے اختیار رو پڑا۔ میری زبان سے نکلا کہ خدا یا، روم کے اس واقعہ کو میرے لئے اس بات کی علامت بنا دیجئے کہ اسی طرح آپ میرے ساتھ ہر جگہ معاملہ فرمائیں گے۔ دنیا سے لے کر آخرت تک کے تمام مراحل آپ کی مہربانی سے شاندار طور پر میرے لئے طے ہوتے چلے جائیں گے۔ ۱۴ ستمبر ۱۹۹۴ بمبئی میں کچھ مسلمانوں نے بامب بلاسٹ پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح انھوں نے ہندوؤں کو خوب سبق سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سوچ صحیح نہیں۔ اسلام کا یہ طریقہ نہیں کہ تخریب کے ذریعہ کسی کو سبق سکھایا جائے ۔ چنانچہ اس کا نقصان خود مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ پولیس کو اس سے موقع ملا کہ وہ ٹاڈا (TADA) کے بے رحمانہ قانون میں مسلمانوں کو پیٹے۔ جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پولیس نے مسلمانوں کو خوف زدہ کر کے ان سے تقریباً ۲۵ کروڑ روپے وصول کئے ہیں۔ اس کے بعد ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف جو انتقامی جذبہ پیدا ہوا، اس کا نقصان خاموش انداز میں جگہ جگہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں داعی اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader