Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوۃ کے درمیان جو نفرت پیدا ہوئی اس نے مدت دراز کے لئے دعوت کے مواقع ختم کر دیئے۔ کچھ مسلمانوں کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دور پریس سے پہلے پیدا ہوئے ۔ آپ کی باتوں کا ریکارڈ کرنے کے لئے اللہ تعالی نے دو کم عمر افراد منتخب کئے تاکہ وہ آپ کی زندگی میں آپ کی باتوں کو اخذ کریں اور آپ کی وفات کے بعد دیر تک اس کو انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کی وفات کے بعد پچاس سال تک آپ کے لئے زندہ ٹیپ ریکارڈر بنے رہے۔ ان دو صاحبان میں ایک ابو ہریرہ تھے اور ایک عائشہ۔ ابو ہریرہ کی عمر اس وقت ۲۵ سال تھی جب کہ وہ آپ کے ساتھی بنے۔ عائشہ کی عمر تقریباً ۱۰ سال تھی جب کہ وہ آپ کی زوجہ کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہنے لگیں۔ ابو ہریرہ کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ انھوں نے کثرت سے حدیثیں یاد کر لیں۔ ان کی روایات کی تعداد ۵۳۴۷ بتائی گئی ہے۔ عائشہ غیر معمولی ذہین تھیں ۔ چنانچہ انھوں نے حکمت نبوت کو اخذ کیا۔ ان کے استنباطات یا فتاوی فہم دین کے سلسلہ میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۹۳ ۱۶ ستمبر کو میں بمبئی میں تھا۔ بمبئی میں الرسالہ تیزی سے پھیلا تھا۔ مگر جب میں آرایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اجتماع میں گیا تو مخالفین نے اس کو خوب استعمال کیا۔ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ تو آر ایس ایس کے ایجنٹ بن گئے۔ اس طرح مسلمانوں کو بھڑکایا دیا گیا۔ اس جھوٹے پروپگنڈے میں اردو اخباروں نے نمایاں رول ادا کیا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان فخر کے ساتھ لکھتے اور بولتے ہیں کہ ہمارے رسول مشرکوں اور کافروں کے اجتماع میں گئے تاکہ ان کو حق کی بات پہنچائیں۔ لیکن موجودہ زمانہ میں ایک مسلمان اگر اس سنت رسول پر عمل کرے تو تمام مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں۔ اسلام موجودہ مسلمانوں کے درمیان کتنا زیادہ اجنبی ہو گیا ہے۔ اسلام کو جاننے والے بھی اسلام کو نہیں پہچانتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page