آغازِ کلام
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۷ستمبر ۱۹۹۳ء ٹکر اؤ کی سیاست سراسر غیر اسلامی ہے۔ ملکہ سبا کے قصہ کے مطابق، پہلی عقلمندی یہ ہے کہ آدمی اطاعت کی روش اختیار کر کے ٹکراؤ سے بچے ۔ اس طرح وہ فساد اور خون ریزی اور ذلت کے انجام سے محفوظ رہے گا ۔ (النمل ۳۴) آدمی اگر یہ عقلمندی نہ کر سکے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کے نتیجہ میں جب نقصان کی نوبت آئے تو وہ اس کو فریق ثانی کا ظلم قرار دے کر اس کے خلاف چیخ پکار نہ کرے۔ بلکہ لازم ہے کہ اس کے اندر تضرع کی کیفیت پیدا ہو۔ وہ خود احتسابی کے ذریعہ اپنی غلطیوں کو معلوم کرے ۔ وہ اپنی کوتاہی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح میں لگ جائے ۔ ( الانعام ۴۳ ) ۱۸ستمبر ۱۹۹۳ء ایک کشمیری نے کہا کہ ہم لوگ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو چکے تھے کہ انڈین یونین کا حصہ بن کر رہیں۔ مگر ۱۹۸۷ء کے الیکشن میں جب کہ دہلی میں راجیوجاندھی کی حکومت تھی، زبردست دھاندلی کرائی گئی ۔ ہمارے مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے نمائندوں کو زبردستی ہرا کر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جتا لیا گیا۔ یہ کشمیری نوجوان جن کے ساتھ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی وہ سب سے پہلے پاکستان گئے اور وہاں سے فوجی ٹریننگ لے کر آئے۔ انھیں لوگوں نے اولاً ۱۹۸۹ء میں سرینگر میں بم مار کر بھارت کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ میں نے کہا کہ آپ کی سیاسی اور فوجی بغاو ت کے لئے یہ عذر بالکل ناکافی ہے۔ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔ اگر دیکھتے تو حضرت معاویہ نے بھی آپ کی زبان میں اسی قسم کی زیادہ بڑی دھاندلی کی تھی ۔ انھوں نے خود اپنی زندگی میں طاقت کے زور پر اپنے بیٹے یزید کی خلافت کے لئے بیعت لی۔ اسی بیعت کے مطابق حضرت معاویہ کی وفات کے بعد یزید کو خلیفہ بنایا گیا ۔ اس وقت بہت بڑی تعداد میں صحابہ اور تابعین موجود تھے۔ مگر تمام لوگوں نے اس سیاسی دھاندلی کو قبول کر لیا ۔ اسی طرح آپ لوگوں کو بھی مذکورہ انتخابی دھاندلی کے با وجود گن کلچر نہیں چلانا تھا، بلکہ سیاسی اقتدار کے باہر جو مواقع کار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader