Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 337

By Maulana Wahiduddin Khan

کھلے ہوئے تھے ان میں کام کرنا تھا۔ مثلاً ایجوکیشن اور تعمیر و ترقی کے دوسرے کام۔ آپ کے لئے جائز اور معقول طریقہ صرف ترقی کلچر ہے نہ کہ گن کلچر۔ سرینگر (کشمیر) کے مولانا محمد امین سلفی ندوی سے میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق مسلمانوں پر ہونے والے مظالم خود ان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ مسلمان اغیار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ہے کہ اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو تو لوگوں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی (آل عمران ۱۲۰) اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسروں کی سازش کا نقصان مسلمانوں کو صرف اس وقت پہنچتا ہے جب کہ مسلمانوں میں صبر و تقویٰ کی صفت نہ رہے۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو چاہئے کہ مسلمانوں میں صبر و تقویٰ کی صفت پیدا کریں نہ کہ دوسروں کی مفروضہ سازش کے خلاف شور مچائیں۔ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۳ء محمد معراج الدین وانی (بارہ مولہ ، کشمیر) سے کشمیر پر بات ہوئی۔ انھوں نے پوچھا کہ کشمیریوں کے لئے آپ کا پیغام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا پیغام دو لفظوں میں یہ ہے کہ گن کلچر چھوڑو، دعوتِ کلچر اختیار کرو۔ میں نے کہا کہ دعوہ کلچر کا لفظ میں کسی محدود معنی میں نہیں بولتا۔ اس سے مراد تمام پر امن سرگرمیاں ہیں۔ مثلاً دعوت ، تعلیم ، کیریکٹر بلڈنگ، اسلامی تربیت، اقتصادی ترقی، معاشرتی اصلاح وغیرہ۔ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۳ء مسٹر دلیپ چوبے اور مسٹر ارون پانڈے ہندی کے جرنلسٹ ہیں۔ دونوں ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ "مسجد توڑو، مندر بناؤ" کی تحریک اٹھانے والی ہے۔ میں نے کہا کہ اب ایسا ممکن نہیں۔ اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوؤں کے سپورٹ کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اور اس ایشو پر اب بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوؤں کی سپورٹ نہیں مل سکتی۔ پھر آخر وہ کامیاب کس طرح ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page