آغازِ کلام
Urdu book, p. 338
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ ہندو اپنے "سرود ھرم سمبھاو" کے نظریہ پر فخر کرتا تھا۔ یہ اس کا پرائڈ تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بھارتیہ جنتا پارٹی والوں نے جب ایودھیا کی مسجد کو توڑا۔ تو انھوں نے سادہ طور پر صرف ایک عمارت کو نہیں توڑا، بلکہ انھوں نے ہندو کے پرائڈ کو توڑ دیا۔ اور کوئی بھی گروہ ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتا جو اس کے پرائڈ کو توڑ ڈالے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۳ محمد امین سلفی ندوی کشمیری ہیں اور سرینگر میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کشمیری مسلمانوں پر بھارتی فوج کے مظالم کا ذکر کیا۔ میں نے پوچھا کہ کبھی آپ کو خود کریک ڈاؤن کا تجربہ ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ سارے کشمیری ہمیشہ کریک ڈاؤن کی زد میں رہتے ہیں، پھر آپ کیسے بچے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سرینگر میں کریک ڈاؤن کے جو واقعات ہوتے ہیں وہ ہمیشہ ڈاؤن ٹاؤن میں ہوتے ہیں جو کہ گھنی آبادی کی وجہ سے جنگجوؤں کے لئے ہائڈ آوٹ کا کام کرتے ہیں۔ اور میں سرینگر کی ایک کالونی (اقبال آباد) میں رہتا ہوں۔ کالونیوں میں چونکہ کھلے مکانات اور کھلی سڑکیں ہوتی ہیں ، اس لئے وہاں کریک ڈاؤن نہیں ہوتا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں کا "ظلم" مشتبہ کشمیریوں کے خلاف ہوتا ہے نہ کہ ہر کشمیری کے خلاف۔ ان کی دشمنی جنگجو کشمیریوں سے ہے نہ کہ ہر اس شخص سے جو کشمیری ہو۔ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ مسلمانوں کی حکومت ہندوستان میں ۱۲۰۶ء میں قائم ہوئی۔ مگر مسلم حکمرانوں کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ قرآن کا ترجمہ ملکی زبان میں کرائیں۔ پہلا ترجمہ قرآن فارسی زبان میں شاہ ولی اللہ دہلوی نے ۱۷۳۰ء میں کیا۔ مگر اس وقت کے مسلمانوں کے لئے وہ اتنا اجنبی تھا کہ وہ شاہ صاحب کے قتل کے درپے ہو گئے۔ اس کے بعد ۱۸۰۵ء میں قرآن کا پہلا اردو ترجمہ شاہ عبد القادر صاحب نے کیا۔ ہندی زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ ۱۹۲۶ء میں خواجہ حسن نظامی نے کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader