Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری طرف انگریزوں نے ۱۷۶۷ء میں ہندوستان میں اپنا اقتدار قائم کیا۔ اس کے بعد انگریزی حکومت نے خود اپنی نگرانی میں ۱۷۹۳ء میں پوری بائبل کا ترجمہ بنگلہ زبان میں شائع کر دیا۔ ۱۸۰۶ء میں حکومت کی سرپرستی میں بائبل کا ترجمہ فارسی زبان میں کرایا گیا۔ ۱۸۲۰ء میں مرزا پور سے بائبل کا اور دو ترجمہ شائع ہوا۔ اور اس کے جلد ہی بعد انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ شائع ہو گیا۔ آج بائبل کا ترجمہ ہندوستان کی تمام قابل ذکر زبانوں میں موجود ہے۔ مسیحی دنیا کی ۷۵ ۷ زبانوں میں بائبل کے ترجمے شائع کر چکے ہیں۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۳ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیرت النبی کا جلسہ تھا۔ موضوع تھا : آفاقی تدریس سیرت کی روشنی میں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتہ للعالمین ہونے کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے تقسیمی طرزِ فکر سے انسان کو نجات دی ۔ لوگ ہمیشہ انسانوں کو کالے اور گورے، دوست اور دشمن، موافق اور مخالف، اپنے اور غیر کے خانوں میں بانٹتے رہے ہیں۔ آپ نے اپنے قول اور عمل سے دکھایا کہ یہ تقسیم درست نہیں۔ ایک دشمن بھی اچھے سلوک کے بعد دوست بن جاتا ہے۔ حسن تدبیر کے ذریعہ آپ بظاہر مخالف آدمی کو بھی موافق آدمی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ہر آدمی کے اندر ایک ہی فطرت ہے۔ فرق، ہمیشہ ظاہری سطح پر ہوتا ہے۔ ظاہری فرق کو ہٹانے کے بعد وہ اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح آپ خود ایک انسان ہیں۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۳ زبیر ملک فلاحی صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ وہ لکھنؤ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے دسمبر ۱۹۹۳ء کا ایک واقعہ بتایا جو ان کے اور طارق فلاحی صاحب کے ساتھ پیش آیا تھا (واضح ہو کہ دونوں نوجوان ہیں)۔ دونوں اپنے اسکوٹر پر بیٹھ کر، ہندی اخبار "آج" کے دفتری میں گئے۔ وہاں ان کو ایک پریس نوٹ دینا تھا۔ آج کا دفتر اوپر کی منزل پر ہے۔ جب وہ پریس نوٹ دے کر نیچے اتراے تو اسی وقت دو اور ہندو نوجوان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page