آغازِ کلام
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
سیڑھی سے اترے۔ سڑک پر پہنچ کر زبیر صاحب اور طارق صاحب اپنے اسکوٹر پر بیٹھ کر اس کو اسٹارٹ کرنے لگے۔ ان کے اسکوٹر پر اس کا نمبر (۱۳۵) اردو میں لکھا ہوا تھا۔ اس نمبر پلیٹ کو دیکھ کر ایک ہندو نوجوان نے دوسرے ہندو سے کہا کہ جانتے ہو یہ کس بھاشا میں لکھا ہوا ہے۔ دوسرے ہندو نوجوان نے جواب دیا کہ مجھ کو نہیں معلوم۔ مذکورہ ہندو نے دوبارہ کہا کہ یہ نمبر پلیٹ پاکستانی بھاشا میں ہے۔ مذکورہ ہندو نے دوبارہ اپنے ساتھی سے کہا، کیا تم اس کا رتھ جانتے ہو۔ اس لیے پھر کہا کہ نہیں۔ ہندو نوجوان نے کہا : اس کا رتھ ہے ”میرا پاکستان مہان“۔ ایک مسلمان اس واقعہ کو سن کر غصہ ہوگا۔ مگر مجھے غصہ نہیں آیا۔ میں نے سوچا کہ یہ مزاج در اصل تقسیم اور دو قومی سیاست کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کا ہندو اگر اپنے اسکوٹر پر ہندی میں نمبر پلیٹ لگائے تو وہاں اس کو بھی برعکس صورت میں یہی سننا پڑے گا۔ اس کا حل کیا ہے۔ اس کا حل غصہ ہونا یا لڑنا ہے۔ اس کا حل سادہ صرف یہ ہے کہ پاکستان کے ہندو جس طرح اپنی گاڑی پر ہندی میں اس کا نمبر نہیں لکھتے۔ اسی طرح انڈیا کے مسلمان اپنی گاڑی پر اردو میں نمبر نہ لکھیں۔ موجودہ حالات میں اس مسئلہ کا دوسرا کوئی بھی حل ممکن نہیں۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۳ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے ہندوستان کے کچھ مسلم بادشاہوں کے ظلم کا ذکر کیا۔ اور اس کی بنیاد پر کہا کہ اسلام ایک تشدد پسند مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام الگ ہے اور مسلمان الگ۔ کچھ مسلمانوں کے فعل کی بنا پر آپ اسلام کو برا نہیں کہہ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ عام آدمی اس فرق کو کیا جانے۔ وہ تو مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کے بارہ میں رائے قائم کرے گا۔ میں نے کہا کہ آپ کو آزادی ہے کہ آپ مسلمانوں کے عمل کی بنیاد پر اسلام کی بابت رائے قائم کریں۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آپ اس کے لئے بھی آزاد ہیں کہ اسلام کی بنیاد پر خود مذہب کے بارہ میں رائے قائم کریں اور کسی چیز کو اسلام میں بتا کر یہ کہیں کہ دنیا کا ہر مذہب ایسا ہی ہے۔ مگر یہ سائنٹفک طریقی فکر نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader