Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

روپیہ دے دیتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی سوچ کے اعتبار سے ماضی میں جی رہے ہیں۔ وہ شعوری طور پر ابھی زمانہ جدید میں داخل نہیں ہوئے۔ اسی بنا پر ایسا ہے کہ وہ مسلح جہاد کی اہمیت کو تو سمجھ لیتے ہیں۔ مگر علمی جہاد کی اہمیت ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۳ رات ناگپور سے عبدالسلام صاحب اور محمد حنیف صاحب کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے کہا کہ جیل پور کی ملاقات میں آپ نے تین نکاتی فارمولا کوروک دیا تھا۔ مگر یہی جاکر آپ نے اس کو پریس میں دے دیا۔ اصل یہ ہے کہ پہلے میں اجودھیا کے معاملہ کو صرف تحفظ ملت کے نقطہ نظر سے دیکھتا تھا۔ مگر بعد کو اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ دعوت اسلام کے حق میں ایک بن گیا۔ سہ نکاتی فارمولانے اس معاملہ میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ اگر میں اس فارمولا کو پیش نہ کرتا تو یہ breakdown ہرگز ممکن نہ ہوتا۔ سہ نکاتی فارمولا موجودہ حالات میں ایک پر امن بم ثابت ہوا ہے۔ اس کے بعد انڈیا میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہندو تعلیم یافتہ طبقہ کی نظر میں کسی مسلمان کا نقطہ نظر ایک قابل سماعت نقطہ نظر بن گیا ہے۔ وہ سمجھنے لگا ہے کہ مسلمان بھی کوئی sensible بات کہہ سکتا ہے۔ اور اس کی بات کو بھی دھیان کے ساتھ سننا چاہئے ۔ اس سے پہلے مسلمانوں کی پہنچ صرف ہندوؤں کے پست طبقہ تک ہوتی تھی۔ اس تبدیلی نے دعوت کے غیر معمولی نئے امکانات کھول دئے ہیں۔ ہندو اجتماعات میں مجھ کو مسلسل بلایا جانے لگا ہے ، جب کہ پہلے اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی سلمان اس سے پہلے اگر کسی ہندو اجتماع میں بلایا جاتا تھا تو وہ صرف مسلم سیٹ کو پر کرنے کے لئے ہوتا تھا نہ کہ حقیقتہ اس کے نقطہ نظر کو جاننے اور سمجھنے کے لئے۔ ہندی، انگریزی وغیرہ اخبارات میں کثرت سے مضامین چھپ رہے ہیں۔ ان روابط کے نتیجہ میں بہت سے نئے دروازے کھلے ہیں۔ مثلاً ایک ہندو عوامی تقریبآ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page