آغازِ کلام
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر ہمیش شرما کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ وہ اس کے قائل ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کا بٹوارہ غلط تھا۔ پورے برصغیر کو دوبارہ ایک مملکت بنانا چاہئے۔ انہوں نے ایک ملاقات میں کہا : اگر وبھا جن ختم نہ ہو تو ہندو اور مسلمان کو کوئی جوڑ نہیں سکتا۔ اور اگر وبھا جن ختم ہو جائے تو کوئی ہندو اور مسلمان کو توڑ نہیں سکتا۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۲ ھ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوۂ موتہ کہا جاتا ہے۔ صحابہ کی یہ جماعت جب منزل پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ دشمن کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ چنانچہ صحابہ کو جنگ کرنے میں تأمل ہوا۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے پر جوش تقریر کی، اور کہا کہ ہمارا مقصد تو شہادت ہے نہ کہ فتح۔ اس کے بعد صحابہ نے جنگ کی طرف اقدام کیا۔ لیکن جنگ میں ایک کے بعد ایک تین مسلم سردار شہید ہو گئے ۔۔۔۔۔ جعفر ابن ابی طالب، زید بن حارثہ، عبد اللہ بن رواحہ۔ اس کے بعد حضرت خالد کو سردار بنایا گیا۔ انہوں نے حالات کا از سر نو جائزہ لینے کے بعد واپسی کا فیصلہ کیا۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے قول کے مطابق ، اگر شہادت مطلق طور پر مطلوب ہو تو حضرت خالد کی یہ واپسی سراسر غلط اور فرار کے ہم معنی تھی۔ مگر جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد کے فعل کی تصویب فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی بات مطلق معنوں میں درست نہ تھی۔ وہ صرف ایک وقتی جذبہ کا اظہار تھا نہ کہ مطلق حکم کا بیان۔ ۲۹ ستمبر ۱۹۹۲ جناب شفیع الدین صاحب ایم اے کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے کہا کہ اکتوبر کا الرسالہ پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ آپ کا پرچہ یک سری (monotonous) ہو گیا ہے۔ ہر پرچہ میں بس صبر و اعراض کی بات رہتی ہے۔ گویا کہ اسلام میں اور کوئی تعلیم نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ متعین طور پر بتائیں کہ اسلام کی کون سی بات الرسالہ میں نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader